خطبات محمود (جلد 19) — Page 220
خطبات محمود ۲۲۰ سال ۱۹۳۸ء عرض کیا کہ یا رَسُول اللہ ! مرد تو اور طرح خدمت کر کے ثواب حاصل کرتے ہیں مگر میں عورت کی ہوں اور تو کچھ نہیں کر سکتی ، یہ میرا لڑکا ہے جسے میں آپ کی خدمت کیلئے پیش کرتی ہوں ، یہ آپ کی خدمت کرے گا لیے حضرت انسؓ کی عمر اس وقت دس بارہ سال کی تھی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کی خدمت کرتے رہے۔ان کی وفات ایک سو دس یا ایک سو ہیں سال کی عمر میں ہوئی۔سے یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ اُس زمانہ میں پیدائش کی تاریخیں عام طور پر یاد نہیں رکھی جاتی تھیں۔مسلمان چونکہ بہت بڑے مورخ تھے اس لئے وفات کی تاریخیں کی تو پوری طرح محفوظ ہوگئیں مگر پیدائش کی تاریخیں اسلام سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے محفوظ نہیں ہو سکیں۔حضرت انس جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بعض لوگ ان کی عیادت کیلئے گئے اور کہا کہ آپ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور خادم ہیں ہمیں کی کوئی خدمت بتائیے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ لوگ میری کیا خدمت کر سکتے ہیں ہاں اگر کی ہو سکے تو میری شادی کرا دیں۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص بغیر شادی کے فوت ہوتا ہے وہ بطال ہے، بطال اسے کہتے ہیں جس کی عمر ضائع گئی ، حضرت انس کی بیوی ان سے کچھ ہی عرصہ پہلے فوت ہوئی تھیں اس لئے انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر میری شادی کرا دو تو میں بھال نہ کہلاؤں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب تو یہ تھا کہ جو شخص اپنی زندگی بھر شادی نہیں کرتا اور اس کی اولاد نہیں ہوتی وہ بطال ہے کیونکہ اسلام نے کی رہبانیت کو نا جائز رکھا ہے مگر حضرت انس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لفظی بات کو پورا کرنے کیلئے یہ بھی پسند نہ کیا کہ چند دن کی عمر بھی بطال گزاریں حالانکہ اُس وقت وہ عمر کی اس حد سے گزر چکے تھے جس میں بچے پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ بھی دراصل ان کے دلی جوش کا نتیجہ تھا۔دین کی خدمت کا جو احساس ان کے دل میں تھا اس کے ماتحت اگر چہ جسم جواب دے چکا تھا مگر کام کی اُمنگ روح میں موجود تھی اور اسی کے ماتحت وہ بعض اوقات یہ بھول جاتے تھے کہ ہم بوڑھے ہو چکے ہیں یا ہمارے جسم اب جواب دے چکے ہیں۔پس عمر کوئی چیز نہیں بلکہ در حقیقت انسان کی اُمنگ اور حوصلہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور اسے مقرب بنا دیتا ہے اور جو اس کی کوششوں کو ہر زمانہ میں جا کر نو جوانوں سے آگے بڑھا دیتا ہے۔