خطبات محمود (جلد 19) — Page 210
خطبات محمود ۲۱۰ سال ۱۹۳۸ء آپ کی وفات ایسے وقت میں ہوئی جبکہ ابھی بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئی تھیں اور چونکہ میں نے عین آپ کی وفات کے وقت دو آدمیوں کے منہ سے یہ فقرہ سنا کہ اب کیا ہوگا۔عبد الحکیم کی کی پیشگوئی کے متعلق لوگ اعتراض کریں گے ،محمدی بیگم والی پیشگوئی کے متعلق لوگ اعترض کریں گے وغیرہ وغیرہ۔تو ان باتوں کو سنتے ہی پہلا کام جو میں نے کیا وہ یہ تھا کہ میں خاموشی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش مبارک کے پاس گیا اور سر ہانے کی طرف کھڑے ہوکر میں نے خدا تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا اے خدا! میں تیرے مسیح کے سرہانے کھڑے ہو کر تیرے حضور یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی پھر گئی تو میں اِس دین اور اس سلسلہ کی اشاعت کیلئے کھڑا رہوں گا جس کو تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا ہے۔میری عمر اُس کی وقت انیس سال کی تھی اور انیس سال کی عمر میں بعض اور لوگوں نے بھی بڑے بڑے کام کئے ج ہیں مگر وہ جنہوں نے اس عمر میں شاندار کام کئے ہیں وہ نہایت ہی شاذ ہوئے ہیں۔کروڑوں میں سے کوئی ایک ایسا ہوا ہے جس نے اپنی اس عمر میں کوئی شاندار کام کیا ہو بلکہ اربوں میں سے کوئی ایک ایسا ہوا ہے اور مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر مجھے یہ فقرہ کہنے کا موقع دیا۔تو مؤمن کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ سمجھے اصل ذمہ دار میں ہوں۔جب کسی شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ میں اور فلاں ذمہ دار ہیں وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان ضائع ہو گیا اور اس کے اندر منافقت آگئی۔ہم میں سے ہر شخص سمجھتا اور کچے دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ احمدیت کچی ہے اور اسلام سچا مذہب ہے مگر کیا اگر فرض کر لیا جائے کہ کسی وقت سب لوگ فوت ہو جائیں یا تی مقطوع النسل ہو جائیں یا نَعُوذُ بالله مرتد ہو جائیں اور صرف اکیلا کوئی شخص باقی رہ جائے تو وہ اس کام کو چھوڑ دے گا۔یقیناً وہ اس کام کو کبھی نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ سمجھے گا کہ اس کام کے کرنے کا بہترین وقت یہی ہے کیونکہ جتنے تھوڑے لوگ ہوں گے اسی قدر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ زیادہ عمدگی سے ان پر پڑے گا۔اگر ایک سیر بھر مصری سمندر میں ڈال دی جائے تو مٹھاس کا پتہ تک نہیں لگ سکتا لیکن اگر گلاس دو گلاس میں اتنی مصری ملا دی جائے تو بہت زیادہ میٹھا ہو جائے گا۔اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ جب ہزار دو ہزار یا لاکھ دو لاکھ نفوس پر پڑے گا تو وہ کی