خطبات محمود (جلد 19) — Page 201
خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۸ء انہوں نے لکھے ہیں سب وہی لکھتے ، وہی اعتراضات کے جوابات دیتے اور دوسرے نو جوانوں کو کچھ بھی پتہ نہ ہوتا کہ اعتراضات کا جواب کس طرح دیا جاتا ہے۔پس میں نے انہیں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے سے روک دیا۔میں نے کہا تم مشورہ بے شک لومگر جو کچھ لکھو وہ تم ہی لکھو تا تم کو اپنی ذمہ داری محسوس ہو۔گو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شروع میں وہ بہت گھبرائے۔اُنہوں نے ادھر اُدھر سے کتابیں لیں اور پڑھیں ، لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں۔مضمون لکھے اور بار بار کاٹے مگر جب مضمون تیار ہو گئے اور انہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دوسرے مضمونوں سے دوسرے نمبر پر نہیں ہیں۔گو ان کو ایک ایک مضمون لکھنے میں بعض دفعہ مہینہ مہینہ لگ گیا اور ہمارے جیسا شخص جسے لکھنے کی مشق ہو شاید ویسا مضمون گھنٹے دو گھنٹے میں لکھ لیتا اور پھر کسی اور کی مدد کی ضرورت بھی نہ پڑتی مگر وہ دس بارہ آدمی ایک ایک مضمون کیلئے مہینہ مہینہ لگے رہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جو اسلامی لٹریچر ان کی نظروں سے پوشیدہ تھا وہ ان کے سامنے آ گیا اور دس بارہ نو جوانوں کو پڑھنا پڑا اور اس طرح ان کی معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔تو اگر اس قسم کے علمی کام یہ انجمنیں کریں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی تاریخ کی کتب ، اسلامی تفسیر کی کتابیں ، حدیث کی کتابیں ، فقہ کی کتابیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں اور اسی طرح اور بہت سی کتابیں ان کے زیر نظر آجائیں گی اور انہیں اپنی ذات میں بہت بڑا علمی فائدہ ہوگا۔دوسرا فائدہ جماعت کو اس قسم کی انجمنوں سے یہ پہنچے گا کہ اسے کئی نئے مصنف اور مؤلف مل جائیں گے۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا یہ نو جوانوں میں اعتماد نفس پیدا ہوگا اور انہیں یہ خیال آئے گا کہ ہم بھی کسی کام کے اہل ہیں۔اب اگر میں بڑے آدمیوں کو بھی انہیں اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت دے دیتا تو یہ سارے فوائد جاتے رہتے۔لیکن یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ تصنیف کا کام ہمیشہ نہیں ہوتا اور نہ ہر شخص کر سکتا ہے کیونکہ ہر شخص نہ عربی میں احادیث پڑھ سکتا ہے، نہ عربی میں تفسیر میں دیکھ سکتا ہے، نہ عربی کتب کا مطالعہ کر سکتا ہے، پس ان کیلئے اور کاموں کی بھی ضرورت ہے۔اور میں