خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 202

خطبات محمود ۲۰۲ سال ۱۹۳۸ انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کے اصول پر کام کرنے کی عادت ڈالیں۔نو جوانوں کی کے اخلاق کی درستی کریں، انہیں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی ترغیب دیں، سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں۔دینی علوم کے پڑھنے اور پڑھانے کی طرف توجہ کریں اور ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کریں، جو واقع میں کام کرنے کا شوق رکھتے ہوں۔بعض طبائع صرف چوہدری بننا چاہتی ہیں، کام کرنے کا شوق اُن میں نہیں ہوتا۔ایسوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ لوگ صرف پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بننا چاہتے ہیں اور ان کا طریق یہ ہوتا ہے کہ جس دن پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کے انتخاب کا سوال ہو فوراً آجائیں گے اور پھر کبھی شکل بھی نہیں دکھا ئیں گے لیکن جب دوبارہ انتخاب کا سوال ہو تو پھر اپنے پندرہ میں چیلے لے کر آجائیں گے جنہیں پہلے سے یہ سکھا دیں گے کہ ہمیں ووٹ دینا اور اس طرح پھر پریذیڈنٹ یا سیکرٹری بن جائیں گے اور خیال کریں گے کہ ان کی زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک جگہ ایک مجلس قائم ہوئی تو اس میں بڑا تفرقہ پیدا ہو گیا۔میں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپس میں خوب لڑائی ہوئی ہے۔ایک کہتا ہے میں پریذیڈنٹ بنوں گا اور دوسرا کہتا ہے میں بنوں گا۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے کہا تم یوں کیوں نہیں کرتے کہ ایک کو پریذیڈنٹ بنا دو، دوسرے کا صدر نام رکھ دو، تیسرے کو مربی بنا دو اور چوتھے کو چیئر مین قرار دے دو۔وہ یہ سُن کر بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے اسی طرح کیا۔ایک کے متعلق کہہ دیا کہ یہ مربی صاحب ہیں اور چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیا کہ اجی مربی ہی سب سے بڑا ہوتا ہے صدر کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔پھر دوسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ ہیں صدر اور دیکھئے صدر ہی سب سے بڑا ہوتا ہے کیونکہ سب سے نمایاں جگہ اسی کو ملتی ہے مربی کا کیا ہے وہ تو گھر بیٹھا رہتا ہے۔پھر تیسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے آپ ہمارے پریذیڈنٹ ہیں صدر تو ملاؤں قُلْ اَعُودیوں کا لفظ ہے آپ موجودہ زمانہ کے روشن دماغ انسانوں کی طرف دیکھئے وہ اپنے میں سے بہترین شخص کو پریذیڈنٹ بناتے ہیں چنانچہ ہم آپ کو اپنا پریذیڈنٹ بناتے ہیں۔پھر چوتھے کے پاس گئے اور کہنے لگے آپ ہمارے چیئر مین ہیں۔چنا نچہ سب خوش ہو گئے کیونکہ انہیں کام سے کوئی غرض نہ تھی۔اُنہیں صرف اتنا شوق تھا