خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 184

خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۸ جب تک مکہ معظمہ میں رہے ویسی ہی تکلیفیں برداشت کرتے رہے جیسی ہمیں برداشت کرنی پڑتی تھ ہیں۔پھر جب مدینہ میں گئے تو وہاں جا کر چند سال بعد آپ کی جلالی زندگی کا دور شرع ہوا۔اس میں حکمت یہی ہے کہ جمالی رنگ کی مشکلات کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں جلالی نبی بھی کھڑا کیا ہے وہاں جمالی رنگ کی قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے کیونکہ ایمان کی آزمائش مسلسل اور لمبی قربانیوں سے ہوتی ہے۔آخر سوچو کہ تیرہ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔اس عرصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مکہ میں چلتے پھرتے گالیاں سننی پڑتیں ، لوگ مارتے ، دُکھ دیتے ، آوازے گستے ، راستوں میں کانٹے بچھا دیتے، غلاظتیں پھینکتے ، پتھروں پر گھسیٹتے ، وطن سے بے وطن کرتے ، غرض کونسی تکلیف تھی جو انہیں کفار نہ پہنچاتے۔صحابہ کو بعض دفعہ غصہ بھی آتا اور وہ جوش کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ فرماتے خدا نے مجھے لڑائی کا کی اذن نہیں دیا۔یہ لبی تکالیف ۱۳ سال تک مکہ معظمہ میں آپ کو پہنچیں۔پھر دو سال مدینہ کی زندگی کے بھی انہی تکلیفوں میں گزرے۔گویا پندرہ سال تک جمالی رنگ کی تکالیف ان پر گزریں اور کی انہی تکالیف نے ان کے ایمانوں کو کامل کر دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بدر کے موقع پر صحابہ نے بڑی قربانیاں کیں۔اس میں کوئی طبہ نہیں کہ اُحد کے موقع پر صحابہؓ نے بڑی قربانیاں کیں مگر میں کہتا ہوں اور صحیح کہتا ہوں کہ بدر کے موقع پر وہ قربانیاں نہیں کر سکتے تھے اگر مکہ کی ساری زندگی اور مدینہ کی کچھ زندگی ان قربانیوں میں سے نہ گزرتی جو جمالی رنگ کی قربانیاں تھیں۔بے شک ابو بکر کی اور عمر اور عثمان اور علی بڑے پایہ کے انسان تھے ، بے شک کبار صحابہ اور اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مہاجر اور اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ انصار بڑی قربانیاں کرنے والے تھے لیکن انہیں بدر اور احد اور دوسری جنگوں نے اس مقام تک نہیں پہنچایا بلکہ انہیں مکہ اور مدینہ کی جمالی زندگی نے ان قربانیوں کی توفیق دی۔اگر شروع میں ہی بدر اور احد کی جنگیں پیش آجاتیں اور صحابہ کو جمالی رنگ کی مشکلات میں سے نہ گزرنا پڑتا تو ابو بکر ابو بکر نہ بنتے، عمر عمر نہ بنتے ، عثمان عثمان نہ بنتے اور علی علی نہ بنتے۔پس بدر نتیجہ تھا اُس جمالی زندگی کا جو مکہ و مدینہ میں گزری۔اسی طرح اُحد اور دوسرے غزوات نتیجہ تھے اُس جمالی زندگی کا جو مکہ ومدینہ میں صحابہ پر آئی اور انہی تکلیفوں