خطبات محمود (جلد 19) — Page 183
خطبات محمود ۱۸۳ سال ۱۹۳۸ء مقابلہ میں کیا کیا ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یکدم زمین کا چھوڑ دینا آسان ہوتا ہے لیکن اگر یہ کہا ج جائے کہ ہر روز اپنے کام کے اوقات میں سے ایک گھنٹہ وقف کرو تو اس پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کیونکہ چیز کا اپنے پاس ہونا اور پھر آہستہ آہستہ اسے قربان کرتے جانا بڑا مشکل ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ چیز پاس ہی نہ رہے۔ہزاروں واقعات دنیا میں ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی کسی کا بچہ اُٹھا کر لے جاتا ہے، ایسی صورت میں ہزاروں کے متعلق سننے میں آتا ہے اور پانچ دس واقعات تو میرے سامنے بھی آئے اور میں نے خودان بچوں کے والدین کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر ہمارا بچہ مر جاتا تو ہمیں اتنا صدمہ نہ ہوتا جتنا اس کے گم ہو جانے کا ہؤا ہے۔اب دیکھو گم ہو جانے کے بھی یہی معنے ہیں کہ وہ والدین سے الگ ہو گیا اور مرجانے کے بھی یہی معنے ہیں کہ وہ جدا ہو گیا مگر بچہ جو مر جاتا ہے اس کے متعلق انسان پہ سمجھ لیتا ہے کہ گو وہ جُدا ہو گیا مگر اب دنیا کی تکالیف میں سے کسی تکلیف میں مبتلا نہیں مگر جو بچہ گم ہو جاتا ہے اس کے متعلق والدین کو کی ہر روز قربانی کرنی پڑتی ہے اور ہر روز انہیں یہ خیال آتا ہے کہ نہ معلوم ہمارے بچے کا کیا حال ہے۔کبھی خیال آتا ہے ممکن ہے وہ آج فاقے کر رہا ہو ممکن ہے وہ آج زمین پر سو یا پڑا ہو ممکن ہے وہ بیمار ہو اور کوئی اُس کو پوچھنے والا نہ ہو۔پھر کبھی یہ خیال آتا ہے کہ شاید کوئی اسے گالیاں دے رہا ہو ، شاید آج کوئی اسے مار رہا ہو غرض ہزاروں وسوسے ماں باپ کے دل میں اٹھتے ہیں کہ اور ہر روز انہیں اپنے جذبات کی قربانی کرنی پڑتی ہے حالانکہ وہ اتنا صدمہ نہیں ہوتا جتنا اپنے بچے کی موت کا صدمہ ہوتا ہے مگر لوگ اس بات کو پسند کر لیں گے کہ ان کی ساری اولا د یکدم جائے بہ نسبت اس کے کہ وہ گم ہو جائے حالانکہ یہ صدمہ تھوڑا ہے اور وہ بڑا۔تو دائمی قربانی ہی اصل قربانی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج تک کبھی کسی نبی کو اس طرح کھڑا نہیں کیا کہ اُسے پہلے ہی دن لڑائی کا حکم دے دیا ہو بلکہ جلالی انبیاء کی زندگیوں کا ابتدائی حصہ اسی قسم کی قربانیوں میں سے گزرتا ہے جس قسم کی قربانیوں میں سے جمالی انبیاء گزرتے ہیں اور یہ جلالی اور جمالی انبیاء میں فرق ہے۔یعنی جمالی نبی شروع سے آخر تک جمالی رہتے ہیں مگر جلالی نبی کی شروع میں جمالی ہوتے ہیں بعد میں جلالی بن جاتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بیشک جلالی نبی تھے مگر کچھ مدت آپ بھی مصر میں تکلیفیں اُٹھاتے رہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم