خطبات محمود (جلد 19) — Page 182
خطبات محمود ۱۸۲ سال ۱۹۳۸ء یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی کیونکہ انہوں نے اپنی کج قربانیوں سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اطاعت میں درجہ کمال رکھتے تھے۔یہ صرف جذبہ اور جنون کی کیفیت تھی اور ایسی صورت تھی جیسے پیارا پیارے سے شا کی ہوتا ہے لیکن پھر بھی صحابہ کی اطاعت کے لحاظ سے یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔تو دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جان دینے کے موقع پر کبھی صحابہ نے ہچکچاہٹ ظاہر نہیں کی مگر صبر کے مواقع میں سے ایک موقع پر وہ بھی ایک منٹ کیلئے جذبات کی رو میں بہہ گئے۔تو صبر کوئی معمولی قربانی نہیں۔ہماری جماعت میں کئی نادان ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہماری قربانیاں ویسی نہیں جیسی کہ صحابہ نے کیں۔حالانکہ حق یہ ہے کہ اگر ہم دیانتداری اور خلوص سے قربانیاں کریں تو ہماری قربانیاں ان سے کسی صورت میں کم نہیں ہوں گی۔ہم نے بہت لوگ دیکھے ہیں جب کوئی خاص اعلان کیا کی جاتا ہے تو وہ بعض دفعہ اپنی ساری جائیداد بیچ کر دین کے راستہ میں دے دیتے ہیں مگر پھر وہی کی لوگ آنہ فی روپیہ چندہ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اس لئے کہ متواتر لمبی قربانی انسان کی پر گراں گزرتی ہے مگر یکدم قربانی کر لینا آسان ہوتا ہے۔پس یاد رکھو فتمنوا الموت إن كُنتُمْ صدقین کا چینج خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کی طرف سے یہود کو دیا ہے اور فرمایا می ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ نجات تمہارے لئے ہی مخصوص ہے اگر درست ہے اور تم اپنے دعوئی میں بچے ہو تو جس طرح مسلمان ہر وقت موت کیلئے تیار رہتے ہیں اسی طرح تم بھی موت قبول کر کے دکھاؤ۔یہ چینج آج بھی قائم ہے اور آج بھی خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتیں اسی معیار کی رو سے اپنی صداقت دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہیں۔آج ہماری جماعت کیلئے بھی جانی قربانیوں کا زمانہ نہیں بلکہ مسلسل اور متواترلمبی قربانیوں اور لمبی آزمائش کا زمانہ ہے جس میں دوسروں سے لڑنا نہیں پڑتا بلکہ دوسروں سے مار کھانی پڑتی ہے جس میں غنیمتیں نہیں مانتیں بلکہ اپنے اموال کی قربانی کرنی پڑتی ہے، جس میں انسان سے یکدم جائداد یا زمین چھوڑ دینے کا مطالبہ نہیں کیا جاتات بلکہ یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مثلاً اپنی زمین کے کام میں سے ہر روز ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے خدمتِ دین کیلئے وقف کرو۔یہ قربانی بھی کوئی کم قربانی نہیں مگر میں نے دیکھا ہے بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں صحابہ نے اپنی زمینیں اور جائدادیں خدا تعالیٰ کیلئے چھوڑ دیں احمدیوں نے اس کے