خطبات محمود (جلد 19) — Page 97
خطبات محمود ۹۷ سال ۱۹۳۸ء تنخواہ دار ملازم ہوں، ان کے باقاعدہ گریڈ ہوں اور ان میں تنخواہوں اور گریڈوں پر آپس میں بحثیں ہوتی ہوں۔اگر ایک مثال بھی کسی زمانہ میں اس قسم کی مل سکے تو بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ طریق منہاج نبوت پر ہے لیکن اگر ایک مثال بھی ایسی نظر نہ آتی ہو تو سمجھنا پڑے گا کہ یہ ایک عارضی سہولت ہے جو کارکنوں کو دی گئی۔جیسے پچھلے سے پچھلے خطبہ جمعہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ کچھ عارضی سہولتیں ہوتی ہیں جنہیں قانون نہیں کہا جاتا۔وہ درمیانی زمانہ میں لوگوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے دی جاتی ہیں اور انہیں مناسب وقت آنے پر دور بھی کیا جا سکتا ہے تا کہ اصل قانون جاری ہو۔پس صدر انجمن احمدیہ کے تمام کاموں کا ڈھانچہ لوگوں کی عادات اور ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا اور ایک عارضی سہولت کے لئے اسے اختیار کیا گیا تھا ورنہ وہ منہاج نبوت پر مبنی نہیں۔منہاج نبوت والا طریق وہی ہے جن میں تنخواہوں اور گریڈوں کا کوئی سوال نہ ہو بلکہ لوگوں سے قربانی کا مطالبہ ضرورت کے مطابق ہو اور ان کا گزارہ قربانیوں کے نتائج پر مبنی ہو۔جیسے حضرت خالد بن ولید حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی کما نڈر رہے ، حضرت ابو بکر کے زمانہ میں بھی کمانڈر رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی کمانڈر رہے۔مگر اپنے کاموں کے لحاظ سے انہیں ترقیات نہیں ملتی تھیں بلکہ ان کاموں کے نتیجہ میں جو ترقیات ہوتی تھیں ان پر ان کی ترقی منحصر تھی یعنی اگر کسی جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سا مال غنیمت میسر آ گیا تو وہ سب میں تقسیم ہو گیا اور ہر ایک کو کافی مال مل گیا اور اگر کسی جنگ میں کچھ حاصل نہیں ہوا تو جیب خالی رہے اور کسی کو بھی کچھ نہ ملا بلکہ انہیں جنگ میں شامل ہونے کے اخراجات بھی گھر سے مہیا کرنے پڑے۔بعض لوگ نادانی سے خیال کرتے ہیں کہ نبیوں کی جماعتوں کو بیت المال سے کچھ نہیں ملتا۔اگر انہیں کچھ نہیں ملے گا تو وہ کھائیں گے کہاں سے۔حقیقت یہ ہے کہ نبیوں کی جماعتوں کو مال کی ملنا تاریخ سے ثابت ہے مگر اس طرح نہیں کہ ایک معتین رقم ان کیلئے مقرر ہو بلکہ وہ جنگوں میں کی شامل ہوتے اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایک پیسہ بھی نہ ملتا مثلاً وہ لڑائی کیلئے گئے تھے مگر جاتے ہی صلح ہوگئی اور اس طرح نہ صرف انہیں کوئی مال نہ ملا