خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 908 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 908

خطبات محمود ۹۰۸ سال ۱۹۳۸ء جاتی تھی۔میں نے انہیں کہا کہ معلوم ہوتا ہے آپ کے دل میں ریوڑیوں کی بہت زیادہ خواہش پائی جاتی ہے۔وہ کہنے لگے ہاں ! خواہش کیوں نہ ہوئیں نے سُنا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ریوڑیوں کو بہت پسند فرمایا کرتے ہیں۔میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو کو نین کو بھی کھایا کرتے ہیں، ایسٹرن سیرپ بھی پیا کرتے ہیں اور چرائتہ وغیرہ کے مرکبات بھی استعمال کر لیا کرتے ہیں۔آپ وہ کیوں نہیں کھاتے ؟ وہ کہنے لگے یہ چیزیں تو کڑوی ہو ئیں میں کی نے کہا بس ٹھیک ہے۔آپ کی مثال تو وہی ہوئی کہ کڑوا کر وا تھو اور میٹھا میٹھا ہپ۔یہی ان لوگوں کی ہجرت کا معاملہ ہے۔یہ ظاہری طور پر نقل مکانی کر لیتے ہیں اور اس سے ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب قربانی اور ایثار اور تبلیغ کا سوال پیدا ہو تو عذر تراشنے لگ جاتے ہیں اور باوجود اس کے فخر سے اپنے آپ کو مہاجر قرار دیتے ہیں۔اگر وہ کہتے کہ ہم دُنیا کمانے کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں، ہم اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں روٹی ملے اور ہمارے روزگار میں ترقی ہو تو ہم ان پر کبھی اعتراض نہ کرتے۔ہم کہتے جو کچھ یہ کہتے ہیں ٹھیک کہتے ہیں۔ان کا کی عمل بالکل قول کے مطابق ہے مگر ہمیں ان پر اگر گلہ ہے تو یہ کہ وہ اپنے ترک وطن کا نام ہجرت رکھتے ہیں اور کام وہ کرتے ہیں جو ہجرت کے مخالف ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بارے میں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ آئندہ کسی کو ہجرت کی اجازت نہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ وہ جماعت کے دوستوں کو بے شک ہجرت کی تحریک کریں مگر ہجرت کے اصول کو بھی مد نظر رکھیں۔جو شخص صحیح طور پر ہجرت کر کے کی یہاں آنا چاہے ہم اس کے راستہ میں ہر گز روک نہیں بنیں گے بلکہ ہم تو اس کی مدد کرنے کے لئے بھی تیار ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک حد تک مستحق مہاجرین کی مدد کیا کریں۔چنانچہ صحابہ جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو انصار نے اپنی جائدادوں میں سے ان کے لئے ایک حصہ الگ کر دیا اور اپنے کھانے پینے میں ان کو شریک کر لیا۔پھر جب مہاجرین کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیئے تو اس طریق کو منسوخ کر دیا گیا اور میں سمجھتا ہوں یہی حق ہر سچے مہاجر کا ہے۔بشرطیکہ اس کی ہجرت خدا کے لئے ہو ، اس کی ہجرت رسول کے لئے ہو، اس کی ہجرت دُنیا کے لئے یا آرام طلبی کے لئے نہ ہو مگر اب جو ہجرت کے نام سے