خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 909 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 909

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء قادیان آئے ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ یہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پوچھتا نہیں مگر سوال یہ ہے کہ تمہیں کیوں پوچھا جائے۔تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے ہجرت کی کیوں ؟ اور تمہاری ہجرت کے معنے کیا ہیں ؟ آخر کہاں سے ہمارا فرض آگیا کہ ہم ان لوگوں کے لئے قربانیاں کریں جو بھگوڑے ہوں اور دشمن کے مقابلہ سے بھاگ کر آگئے ہوں۔ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا اگر خدا اور اس کے رسول نے کہیں حکم دیا ہو تو وہ حکم ہمیں دکھاؤ مگر جہاں تک میں نے قرآن اور احادیث کو دیکھا ہے مجھے یہی نظر آیا ہے کہ بجائے اس کے کہ ایسے لوگوں کی مدد کی تحریک کی جاتی کی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو فوراً انہیں اپنے ارد گرد سے دور پھینکو کیونکہ وہ منافق ہیں اور اپنی عملی حالت سے اسلام کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔پس ایسے لوگوں کی مدد کرنا تو اسلام اور احمدیت پر سخت ظلم کرنا ہے۔پھر کئی لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ قادیان آتے ہیں، اپنے بیوی بچوں کو یہاں چھوڑ جاتے ہیں اور خود کہیں باہر بھاگ جاتے ہیں۔اب ان کے بیوی بچوں کے مجھے رقعوں پر رُفعے آنے لگ جاتے ہیں کہ ہماری مدد کی جائے اور ہمارا کوئی وظیفہ مقرر کیا جائے۔میں ہمیشہ ان سے کہا کرتا ہوں کہ تمہاری وہ جائداد کہاں گئی جس کے بھروسہ پر تم قادیان آئے تھے اور اگر تمہارے گزارہ کا کوئی سامان نہ تھا تو تم قادیان کیوں آگئے اور اب تمہارے لئے وظیفہ کیوں مقرر کیا جائے ؟ اگر اس قسم کے لوگوں کے کی لئے وظائف مقرر کئے جائیں تو دس دن کے اندر ہی اندر سلسلہ کے تمام کام بند ہو جائیں کیونکہ جس دن انہیں پتہ لگے گا کہ اس طرح بے کاروں ، ناداروں اور بھگوڑوں کے لئے وظائف مقرر کئے جانے لگے ہیں تو سینکڑوں بے کار اور اخلاق میں گرے ہوئے لوگ قادیان آجائیں گے اور سب اپنے لئے وظائف کی درخواستیں دے دیں گے اور جب ان کو وظیفہ دے دیا گیا تو ہے باقی کام کس طرح چل سکتے ہیں۔پس اصولی طور پر علاج یہی ہے کہ ایسے آدمی کو آتے ہی قادیان سے رخصت کر دیا جائے۔ہمیں یہ تو منظور ہے کہ ہم ایسے آدمی کو واپسی کا کرایہ اپنی گرہ کی سے دے دیں مگر ہم ایسے آدمی کو قادیان میں ایک دن رہنے کی بھی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ سلسلہ پر ایک ایسا بوجھ ڈالتے ہیں جو بالکل ناواجب ہوتا ہے اور چونکہ نہ تو بیرونی جماعتیں اس طرف صحیح طور پر توجہ کرتی ہیں اور نہ یہاں کے محلوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری