خطبات محمود (جلد 19) — Page 886
خطبات محمود ۸۸۶ سال ۱۹۳۸ صحابہ کے نام دیکھو بعض بالکل ادنیٰ قسم کے تھے۔مثلاً کسی کا نام جریر تھا مگر ہم جب ان کا نام لیں گے تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہیں گے۔جریر کے معنی پنجابی زبان میں گھسیٹا کے ہیں ہم یہ نہیں کی دیکھتے کہ ان کا نام گھسیٹا تھا بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کیا ہیں۔گھسیٹا ہیں یا تخت پر بیٹھنے والے ہیں۔ہماری جماعت میں بھی بعض نام ایسے ہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ کی والسلام کے ایک مخلص صحابی کا نام اروڑہ تھا بعض لوگ جن کے بچے عام طور پر فوت ہو جاتے ہیں وہ بچہ کو میلے کے ڈھیر پر گھسیٹتے ہیں کہ شاید وہ اس طرح بچ جائے اور پھر ان کا نام اروڑہ رکھ کی دیا جاتا ہے۔ان منشی صاحب کا نام بھی اسی طرح ان کے والدین نے اروڑہ رکھا تھا مگر وہ خدا تعالی کی نگاہ میں اروڑہ نہ تھے۔ماں باپ نے ان کا نام اس لئے رکھا تھا کہ شاید میلے کے ڈھیر پر پڑ کر ہی یہ بچہ زندہ رہے مگر اللہ تعالیٰ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں ڈال کر نہ صرف جسمانی موت سے بلکہ روحانی موت سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ماں باپ نے اسے گند کی نذر کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے پاک دل کو دیکھا اور اسے اپنے لئے قبول کیا چنانچہ اس نے انہیں ایمان نصیب کیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی بنے اور ایسے مخلص کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسے اخلاص کے بغیر نجات کی امید رکھنا فضول بات ہے۔ان لوگوں نے اپنے اخلاص کا ثبوت ایسے رنگ میں پیش کیا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔یہ لوگ محبت پیار کے مجسمے تھے۔منشی اروڑہ صاحب مرحوم نے مجھے خود ایک واقعہ سنایا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ لیا تھا کہ آپ کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ابتدائی زمانہ میں دوریاستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کا خاص موقع نصیب ہوا۔ایک کپورتھلہ اور دوسری پٹیالہ۔مجھے افسوس ہے کہ پٹیالہ نے اپنا معیار قائم نہ رکھا، بعد میں کئی فتنوں میں پٹیالہ کا کوئی نہ کوئی حصہ ہوتا رہا ہے۔( یہ یمنی بات میں نے اس لئے کہہ دی ہے کہ پٹیالہ کی جماعت کو توجہ ہو اور وہ اپنے معیار کو قائم رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ محض ماں باپ کی وجہ سے کوئی ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں کر سکتا ) تو کپورتھلہ کی جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سے خواہش کی کہ حضور وہاں تشریف لائیں اور آپ نے وعدہ فرمایا منشی اروڑہ صاحب مرحوم