خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 762 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 762

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ فتوحات بھی بیچ ہیں کیونکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس کا حلقہ اثر عالمگیر ہے۔چوتھا سبق رمضان سے ہمیں یہ حاصل ہوتا ہے کہ کوئی بڑی کامیابی بغیر دعا کے حاصل نہیں ہوسکتی بالخصوص دین میں تو کوئی کامیابی اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک دعا نہ کی جائے دُنیا بغیر دعا کے حاصل ہو جائے تو ہو جائے دین حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ حقیقت ، ہے کہ دنیوی کامیابیوں کے لئے بھی عملی دعا ضروری ہوتی ہے جسے دوسرے لفظوں میں قوت ارادی کہتے ہیں۔قوت ارادی اور عزم در اصل دعا ہی کا ایک نام ہے۔دعا کیا ہے؟ اپنے عزم اور ارادہ کا لفظوں میں اظہار۔بہر حال کوئی دینی جماعت بغیر دعا کے ترقی نہیں کر سکتی ہی یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں روزوں کے احکام کے ذکر میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ، ٥ جب مؤمن روزے رکھیں ، قربانیاں کریں اور استقلال سے قربانیاں کرتے چلے جائیں اور اس کے بعد دعاؤں سے کام لیں تو وہ دعا خالی نہیں کی جاتی بلکہ ضرور ان کو ان کے مقاصد میں کامیاب کرتی ہے مگر فرمایا جب استقلال اور قربانیوں کی کے بعد دعا کریں گے تب ان کی دعاسنی جائے گی یونہی نہیں۔گو یا اللہ تعالیٰ نے استقلال، قربانیوں اور دعا کو لازم و ملزوم قرار دیا ہے بغیر دعا کے استقلال کے ساتھ قربانی کرنا دینی عالم میں بیج ہے اور بغیر استقلال والی قربانیوں کے دعا انسان کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی۔وہ فرماتا ہے أجِيبُ دَعْوَةٌ الداعر اِذا دَعَانِ جو اس رنگ میں دعا کرنے والے ہوں میں ان کی کی دعاؤں کو سنا کرتا ہوں یعنی جو استقلال کے ساتھ قربانیاں کریں اور پھر کرتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کامیابی کیلئے دعائیں بھی کریں ان کی دعا ضرور قبول ہو کر رہتی ہے۔بعض لوگ غلطی سے اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا کی ہے اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ جب خدا کا یہ وعدہ ہے تو پھر ان کی بعض دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں مگر یہ استدلال درست نہیں۔اس جگہ تمام دعاؤں کی قبولیت کا اللہ تعالیٰ نے کوئی وعدہ نہیں کی کیا بلکہ فرمایا ہے اُجیب دعوة الداع میں اس دعا کرنے والے کی دعا کوئنتا ہوں جس کی کا ذکر اوپر ہوا ہے۔اور اس سے پہلے رمضان اور روزوں کا ذکر ہے جو استقلال سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرنے کا سبق دیتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ان شرائط کو