خطبات محمود (جلد 19) — Page 761
خطبات محمود ۷۶۱ سال ۱۹۳۸ء ساری دنیا کو فائدہ پہنچا ئیں گی اور ہماری فتح جسموں پر نہیں بلکہ دلوں پر ہوگی اور ہماری فتح انسانوں کی پر نہیں بلکہ فرشتوں پر ہوگی بلکہ اگر بے ادبی نہ ہو تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا خدا بھی ہمارے قبضہ میں آجائے گا۔پس ہماری کوششوں کے نتائج بہت اہم ہیں اور ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں اور ہماری منزل بہت دور ہے۔کئی بیوقوف نو جوان ہیں جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ جاپان نے تمہیں سال میں ترقی کر لی ، اٹلی نے ہمیں سال میں ترقی کرلی اور جرمنی نے دس سال میں ترقی کی کر لی مگر ہم نے ان کے مقابلے میں کچھ بھی ترقی حاصل نہیں کی۔وہ بیوقوف یہ نہیں جانتے کہ وہاں قوم کی قوم ایک مقصد کیلئے کھڑی تھی اور یہاں صرف ایک آدمی سے جد و جہد شروع ہوئی۔جاپان نے جب دوڑ شروع کی تو اس نے چار کروڑ لوگوں کو اپنے ساتھ لیکر دوڑ لگائی اور تمیں سال کی جدو جہد کے بعد اس نے چار کروڑ کو چھ کروڑ بنایا۔اٹلی نے جب دوڑ شروع کی تو اس نے بھی چار پانچ کروڑ لوگوں کو ساتھ لے کر دوڑ شروع کی اور بیس سال کے عرصہ کے بعد انہیں چار سے پانچ کروڑ یا پانچ سے چھ کروڑ بنا دیا۔اسی طرح جرمنی نے جب دوڑ شروع کی تو اس نے سات کروڑ لوگوں کے ساتھ شروع کی اور دس سال بعد انہیں آٹھ کروڑ بنادیا۔گویا وہ اس جد و جہد میں صرف چودہ فیصدی سے لے کر پچاس فیصدی تک بڑھے حالانکہ کروڑوں لوگ کی ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا کو لے کر کھڑے ہوئے تھے۔اس کے مقابلہ میں کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہماری دوڑ صرف ایک شخص سے شروع ہوئی۔ایک کی شخص نے قادیان میں کھڑے ہو کر جو تمام متمدن دنیا سے الگ ایک گوشہ میں پڑا ہوا گاؤں تھا ساری دنیا کے مقابلہ میں لڑائی شروع کر دی اور پھر وہ بڑھا اور بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ پہلے وہ ایک تھا مگر آج کئی لاکھ آدمی اس کے ساتھ ہیں۔پس اٹلی اور جرمنی اور جاپان نے پچاس فیصدی ترقی کی لیکن یہاں ایک سے کئی لاکھ بن گئے۔اب پچاس فیصدی اور لاکھ فیصدی میں بھلا کوئی نسبت ہے؟ پھر جس جس میدان میں قربانی کی ضرورت تھی ان تمام میدانوں میں جماعت احمدیہ نے قربانی کی۔پس ہماری جماعت نے بھی حیرت انگیز ترقی کی ہے لیکن چونکہ ہماری جدوجہد کا دائرہ بہت وسیع ہے اس لئے گو ہماری موجودہ کامیابی بھی بہت بڑی ہے مگر ہمارا اصل مقصدا بھی دور ہے اور گووہ دیر میں آنے والا ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے مقابلہ میں تمام دنیا کی