خطبات محمود (جلد 19) — Page 748
خطبات محمود ۷۴۸ سال ۱۹۳۸ اِدھر اُدھر پھرتے ہوں پھر بھی وہ ایک کام تو کر رہے ہوتے ہیں بالکل فارغ نہ انسانی دماغ رہتا کی ہے اور نہ جسم ، کچھ نہ کچھ کام انسان ضرور کرتا رہتا ہے۔مگر بعض لغو کام ہوتے ہیں ، بعض مضر ، بعض مفید کام ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی اچھے۔تو رمضان انسان کو ایک ایسے کام کی عادت کی ڈالتا ہے جس کے نتیجہ میں نیک کاموں میں مشقت برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔انسانی زندگی کی راحت اور آرام کی چیزیں کیا ہوتی ہیں یہی کھانا ، پینا سونا اور ، جنسی تعلقات۔تمدن کا اعلیٰ نمونہ جنسی تعلقات ہیں جس میں دوستوں سے ملنا اور عزیزوں سے گفتگو کر نا بھی شامل ہے مگر جنسی تعلقات میں سب سے زیادہ قریبی تعلق میاں بیوی کا ہے۔پس انسانی آرام انہی چند باتوں پر منحصر ہے کہ وہ کھاتا ہے، پیتا ہے ، سوتا ہے اور جنسی تعلقات قائم رکھتا ہے۔کسی صوفی نے کہا ہے کہ تصوف کی جان کم بولنا کم کھانا اور کم سونا ہے اور رمضان اس تصوف کی ساری جان کا نچوڑا اپنے اندر رکھتا ہے۔کم سونا آپ ہی اس میں آجاتا ہے کیونکہ ہر شخص کو تہجد کے لئے اٹھنا پڑتا ہے، کم کھانا بھی ظاہر بات ہے کیونکہ سارا دن فاقہ کرنا پڑتا ہے اور جنسی تعلقات کی کمی بھی ظاہر بات ہے، پھر کم بولنا بھی رمضان میں آجاتا ہے اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا، روزہ یہ نہیں کہ تو اپنا منہ کھانے پینے سے بند رکھے بلکہ روزہ یہ ہے کہ تو لغو باتیں بھی نہ کرے ہے پس روزہ دار کے لئے بے ہودہ بکواس سے بچنا، لڑائی جھگڑے سے بچنا اور اس طرح کی لغو باتوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے اور اس طرح کی کم بولنا بھی رمضان میں آگیا۔گو یا کم کھانا ، کم بولنا ، کم سونا اور کم جنسی تعلقات کرنا یہ چاروں با تیں رمضان میں آگئی ہیں اور یہ چاروں چیزیں نہایت ہی اہم ہیں اور انسانی زندگی کا ان سے ، گہرا تعلق ہے۔پس جب ایک روزہ دار ان چاروں آرام و آسائش کے سامانوں میں کمی کرتا ہے تو اس میں مشقت برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ رمضان ہم سے قربانی کی کرا تا ہے نیند کی ، رمضان ہم سے قربانی کراتا ہے باتوں کی ، رمضان ہم سے قربانی کراتا ہے کھانے کی ، رمضان ہم سے قربانی کراتا ہے جنسی تعلقات کی اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں وہ ہیں اس بات کی عادت ڈالتا ہے کہ ہم نیکی کے کاموں میں مشقت برداشت کریں۔حضرت خلیفتہ المسیح الا قول اپنے کسی استاد یا کسی سابق بزرگ کا یہ قول بیان فرمایا کرتے تھے