خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 679 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 679

خطبات محمود ۶۷۹ سال ۱۹۳۸ء ایک لمبے عرصہ سے اللہ تعالیٰ کے اس خلعت کو خراب کر رہا ہوں۔میں ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن جب میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں گا تو اُس کو کیا جواب دوں گا اور اپنی براءت میں کونسی بات پیش کر سکوں گا ؟ پس میرا استعفیٰ منظور کیجئے میں اب اور زیادہ اس الہی خلعت کی بے حرمتی کرنا نہیں چاہتا۔بادشاہ نے انہیں بہتیر اسمجھایا مگر وہ نہ مانے اور استعفیٰ دے کر الگ ہو گئے ، وہ اتنے ظالم مشہور تھے کہ اس کے بعد وہ مختلف علماء کے پاس جب تو بہ کے لئے گئے تو کوئی اُن کی توبہ قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا اور ہر ایک کہتا کہ تیرے جیسے آدمی کو تو اللہ تعالیٰ سیدھا جہنم میں جھونکے گا۔آخر وہ حضرت جنید بغدادی کے پاس گئے اور جا کر کہنے لگے کہ چاہے کوئی شرط آپ رکھیں میں ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہوں میری بیعت آپ قبول فرما ئیں۔کہنے لگے اچھا اگر تمہیں ہر شرط منظور ہے تو پھر تم اس شہر میں جاؤ جہاں کے تم گورنر رہ چکے ہو اور کی اس شہر کے ہر گھر کے دروازہ پر دستک دو اور وہاں کے لوگوں سے معافی مانگو۔چاہے معافی کی مانگنے میں تمہیں کتنا عرصہ لگ جائے۔چنانچہ وہ اُس شہر میں گئے اور چھ مہینے یا سال یا جتنا عرصہ لگا کی وہ اس شہر میں رہے اور اُنہوں نے ہر دروازہ پر دستک دے کر لوگوں سے اپنے گناہوں کی معافی چاہی اور جب سب سے معافی مانگ چکے تو پھر حضرت جنید کے پاس آئے اور انہوں نے اپنی بیعت میں انہیں شامل کر لیا۔شے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں خود بھی بہت بڑا رتبہ دے دیا۔وہ چنانچہ وہ اسلام کے صوفیاء کے ایک ستون سمجھے جاتے ہیں۔تو انسان چھوٹی چھوٹی عزتوں کے حصول کے لئے بڑی بڑی فقر بانیاں کرتا ہے اور پھر ان کی قُر بانیوں کے بعد جو چیز اسے ملتی ہے وہ نہایت ہی ذلیل اور ادنیٰ قسم کی ہوتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے فضل اتنے اہم ہوتے ہیں کہ ان فضلوں کے مقابلہ میں دُنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ صحابہ کا جب بھی کوئی ذکر کرے ہم رضي الله عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کہے بغیر نہیں رہتے۔اب یہ ایک خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا۔ایسا ہی جیسا خان صاحب یا خان بہادر یا سر یا ڈیوک یا مارکوئس یا ارل وغیرہ ہیں۔مگر سو چو تو سہی کتنے خان بہا دریا سر یا ڈیوک یا مار کوئٹس یا ارل ہیں جن کا نام دُنیا جانتی ہے یا کتنے بادشاہ ہیں جن کا نام لوگ جانتے ہیں یا کتنے بادشاہ ہیں جن کا نام دنیا خطاب سمیت لیتی ہے۔