خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 680 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 680

خطبات محمود ۶۸۰ سال ۱۹۳۸ء بڑے بڑے بادشاہ دُنیا میں گزرے ہیں مگر آج لوگ اُن کا نام نہایت بے پروائی سے لے دیتے ہیں۔سکندر کتنا بڑا بادشاہ تھا یونان سے وہ چلتا ہے اور ہندوستان تک فتح کرتا چلا آتا ہے اور بڑی زبر دست حکومتوں کو راستہ میں شکست دیتا ہے مگر آج ایک غریب اور معمولی مزدور بھی جو ایک انگریز سپاہی سے بھی ڈر جاتا ہے سکندر کا نام نہایت بے پروائی سے لے لیتا ہے۔بچے بھی کی سکندر سکندر کہتے پھرتے ہیں اور کوئی ادب کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں کرتے۔دارات بھی ایک عظیم الشان بادشاہ تھا اور گوا سے سکندر کے مقابلہ میں شکست ہوئی مگر اس کی میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بھی زبر دست سلطنت کا مالک تھا اور چین تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی تھی مگر آج لوگ اُسے دارا دارا کہتے پھرتے ہیں۔بادشاہ کا لفظ بھی اس کے متعلق استعمال نہیں کرتے۔تیمور جو ایک زمانہ میں دنیا کے لئے قیامت بن گیا تھا۔آج اُسے ساری دنیا تیمور لنگ یعنی لنگڑا تیمور کہتی ہے۔اپنے زمانہ میں اُس کی اتنی ہیبت تھی کہ جب وہ حملہ کرتا تو گشتوں کے پشتے لگا دیتا اور بعض جگہ تو لوگوں کو مار مار کر اُن کی لاشوں کو جمع کرتا اور ایک مینار کھڑا کر دیتا۔بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ اس نے کئی لاکھ آدمی قتل کیا ہے مگر اب ایک ذلیل سے ذلیل انسان بھی جب تیمور کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے لنگڑا تیمور۔حالانکہ اس کے زمانہ میں کسی کو یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اُسے لنگڑا تیمور کہے بلکہ بادشاہ کیا وہ شہنشاہ کہلاتا تھا اور بڑے بڑے حکمران اس کے خوف سے کانپتے تھے۔تو وہ بادشاہ جن کی اپنے زمانہ میں بڑی ہیبت تھی جن کا نام سُن کر ہزاروں میل پر لوگ کانپ اٹھتے تھے اُن کا نام آج انتہائی لا پروائی کے ساتھ ایک معمولی اور بے حیثیت آدمی بھی لے لیتا ہے اور کئی تو ایسے ہیں جن کا نام بھی آج کوئی نہیں جانتا مگر وہ غریب بکریاں اور کی اونٹ چرانے والے صحابہ جنہوں نے غربت میں اپنی عمریں گزار دیں آج اُن کا نام آتا ہے تو رضي اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کے بغیر ایک مسلمان کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔حضرت ابو ہریرہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور