خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 666 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 666

خطبات محمود ۶۶۶ سال ۱۹۳۸ء جب میں نے تمام دودھ پی لیا تو معاً میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ اب میری امت بھی کبھی گمراہ نہیں ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ معراج کی رات آپ کے سامنے ایک شراب کا پیالہ اور ایک دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ پی لیا اور شراب کا پیالہ رڈ کر دیا۔اس پر جبرائیل نے کہا آپ نے اچھا کیا جو دودھ کا پیالہ لیا اور شراب کا پیالہ نہ لیا۔کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امت کبھی گمراہ نہیں ہوگی۔۔اسی طرح میں نے اس وقت دودھ کا پیالہ پی کر کہا اب میری امت بھی کبھی گمراہ نہیں ہوگی۔یہ استعارہ ہے جو میری زبان پر جاری ہو ا۔اس کے یہ معنے نہیں کہ میں نبی بن گیا۔مطلب یہ ہے کہ میرے شاگرد، میرے مرید اور میرے اتباع بھی کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔اور یہ مقام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خلی طور پر مجھے حاصل ہوا ہے یہ نظارہ دیکھنے کے معا بعد مجھے آرام ہو گیا۔اور میں نے دیکھا کہ نہ مجھے بخار ہے اور نہ کہیں درد کی شکایت۔ہے تو اس وقت اس رؤیا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہی بات بتائی کہ تمہیں طاعون نہیں۔اور تم اس سے محفوظ رہو گے۔حالانکہ یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ کسی مومن کو بھی طاعون نہ ہو گئی مومن ہیں جو طاعون سے شہید ہوتے ہیں۔لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا کہ تمہیں طاعون نہیں کی ہے کہ تم اس سے بفضلہ محفوظ ہو۔اسی طرح بعض دفعہ مومن بھی اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی بناء پر کہہ سکتا ہے کہ مجھے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔اور پھر واقع میں کوئی دشمن اسے قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔مگر یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ انبیاء کا قتل شاذ و نادر ہوتا ہے اسی لئے میرا طریق اور علماء سلسلہ کا بھی یہی طریق رہا ہے کہ قرآن کریم میں انبیاء کے متعلق جب قتل وغیرہ کے الفاظ آئیں تو ہم ان کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قتل سے مراد کوشش قتل یا ارادہ قتل ہے کیونکہ وہاں عام لفظ ہیں اور خطرہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کے مضمون کو عام نہ کر دیں۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم انبیاء کے متعلق قتل کی کلیتہ نفی کر دیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بھی بعض دفعہ شکست ہوئی ہے مثلاً اُحد کے موقع پر۔گو میرا احساس یہی ہے کہ میں اُحد کی شکست کو بھی فتح ہی سمجھتا ہوں اور حقیقت بھی یہی ہے مگر پھر بھی اس وقت