خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 665

خطبات محمود ܬ ܖ ܖ سال ۱۹۳۸ء پس ایسے حوالوں میں یا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف اپنا ذکر کیا ہے۔یا اُن کی انبیاء کا ذکر کیا ہے جو کبھی قتل نہیں ہو سکتے جیسے سلسلہ کا پہلا اور پچھلا نبی اور یا پھر اس سے مراد وہ انبیاء ہوں گے جو خواہ درمیانی زمانہ میں آئیں مگر اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کا وعدہ کر دے۔اور میں بتا آیا ہوں کہ ایسا وعدہ اگر کسی مومن سے ہو جائے تو اسے بھی کوئی قتل نہیں کر سکتا۔آخر نہ مارا کی جانا انبیاء کے لئے شرط نہیں۔کئی مومن بھی ایسے ہو سکتے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہی وعدہ کی کر دے اور اگر کسی مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسا وعدہ کر دے تو پھر اسے بھی کوئی قتل نہیں کی کرسکتا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد قادیان میں طاعون کی بعض وارداتیں ہوئیں۔مجھے بھی اتفاقاً بخار ہو گیا۔اور اس کے ساتھ ہی ران میں درد محسوس ہونے کی لگا۔میں نے سمجھا شاید طاعون ہونے لگا ہے۔یہ خیال آتے ہی میرا وہم بڑھنا شروع ہوا اور مجھے سخت فکر اور قلق محسوس ہوا اور میں نے اپنے کمرہ کے دروازے بند کر دئے اور سجدہ میں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گر کر دعا کر رہا تھا میری آنکھیں کھلی تھیں اور میں کامل بیداری کی حالت میں تھا میں نے کیا دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے جو نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے وہ نو ر ایک گول ستون کی شکل میں ہے۔جیسے اس مسجد اقصیٰ ) میں گول ستون ہیں اسی کی طرح وہ نور کا ایک ستون ہے جو نہایت ہی براق اور سفید ہے اس نور کے ستون نے اوپر کی طرف بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ چھت پھاڑ کر باہر نکل گیا۔پھر اور زیادہ اوپر کی طرف بڑھاتی یہاں تک کہ بالا خانہ کی چھت کو پھاڑ کر بھی نکل گیا۔اسی طرح وہ نور کا ستون اونچا ہوتا چلا گیا۔یہاں تک کہ میں نے سمجھا اب یہ غیر محدود فاصلہ تک پہنچ گیا ہے۔پھر جب میں نے نیچے کی طرف خیال کیا تو اس کی ابتداء کا بھی کوئی پتہ نہ چلتا تھا گویا وہ ایک ایسا نور تھا جس کی نہ ابتدا تھی نہ انتہاء جب اس طرح وہ زمین کی پاتال سے لے کر آسمان کی انتہاء تک پہنچ گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس نور میں سے ایک نہایت سفید اور نورانی ہاتھ نکلا ہے اور اس نورانی اور سفید ہاتھ میں ایک سفید اور براق پیالہ ہے اور اس سفید اور براق پیالہ میں نہایت سفید اور براق دودھ ہے اور مجھے کسی نے کہا کہ اسے پی لو۔چنانچہ میں اس دودھ کو پی گیا۔