خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 664

خطبات محمود ۶۶۴ سال ۱۹۳۸ء گواہی تو حیدر آباد کے دوستوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ان کے سامنے اس بارہ میں کیا کہا ہے۔میری یہ حالت تھی کہ جس دن الفضل میں میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب کا یہ مضمون پڑھا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل نہیں کئے گئے تو ایک شخص بشیر کنجاہی کو میں نے مخاطب کر کے کہا۔جماعت میں ایک اور بڑا فتنہ پیدا کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ہے گویا وہ کہتے ہیں میں نے مضمون پڑھتے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ہماری ساری عمر کے علم کے خلاف ہے ہم ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنتے آئے ہیں کہ حضرت بیٹی علیہ السلام شہید کئے گئے تھے۔مگر آج یہ بیان کیا جارہا ہے کہ وہ شہید نہیں ہوئے یہ وہ دو شخص ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا منکر نکیر کہا کرتے تھے۔فرماتے تھے۔ادھر ہم بات کرتے ہیں اور اُدھر یہ کی اخباروں میں شائع کر دیتے ہیں میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے آپ فرمایا کرتے یہ ہمارے دو بازو بھی ہیں اور منکر نکیر بھی ہیں۔باز و تو اس لئے کہ ان کے اخبارات کی کے ذریعہ دشمنوں کے حملہ کا ر ڈ ہو رہا ہے اور منکر نکیر اس لئے کہ کوئی بات ادھر ہمارے منہ سے نکلتی ہے اور اُدھر یہ اپنے اخباروں میں شائع کر دیتے ہیں جس سے دشمن بعض دفعہ فائدہ بھی اُٹھالیتا ہے اور جب وہ اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نے فلاں بات یوں کہی ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ اسے کس طرح پتہ لگ گیا اور وہ جھٹ ڈائری نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے کہ فلاں وقت فلاں مجلس میں آپ نے یہ بات کہی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دونوں کا نام منکر نکیر رکھا ہو ا تھا۔اب بھلا منکر نکیر سے زیادہ قابلِ اعتبار گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے اس کے علاوہ میں نے اپنی گواہی بھی دی ہے اور بتایا ہے کہ وفات تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے ہیں وہ حوالے جو اپنے اندر عمومیت رکھتے ہیں۔ان سے مراد بعض جگہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا وجود ہے جیسے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نے قرآن کریم میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہہ دی ہے اور پھر کہا ہے کہ وہ مریم عیسی سے حاملہ ہوگئی حالانکہ اس سے مراد آپ کی ذات ہی تھی۔