خطبات محمود (جلد 19) — Page 641
خطبات محمود ۶۴۱ سال ۱۹۳۸ء اس میں کسی کا فائدہ نہ تھا۔بلکہ ان کا قتل تسلیم کرنے میں عیسائیوں کا نقصان تھا۔کیونکہ اس طرح انہیں مانا پڑتا تھا کہ صرف حضرت عیسی علیہ السلام ہی بے گناہوں کے لئے کفارہ نہیں ہوئے بلکہ ایک اور بے گناہ بھی گنہگاروں کے لئے کفارہ ہوا۔اور دشمنوں کی شرارت سے مارا گیا۔اور اس کی کو تسلیم کرنا عیسائیوں کے لئے سخت گراں ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں ایک حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں جولوگوں کے لئے کفارہ ہوئے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ عیسائی پہلے بھی بعض نبیوں کے قتل کے قائل ہیں۔پس حضرت یحی کی علیہ السلام کا قتل ماننے سے ان پر زیادہ اعتراض کس طرح آسکتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک وہ بعض اور انبیاء کے قتل کے بھی قائل ہیں۔مگر حضرت یحیی علیہ السلام وہ ہیں جنہیں وہ بے گناہ قرار دیتے ہیں اور جن کی حضرت عیسی علیہ السلام نے بیعت کی تھی۔اور جن کے متعلق ایک راستباز اور بے عیب کے الفاظ انا جیل میں آتے ہیں۔پس حضرت یحیی علیہ السلام کے واقعہ قتل اور دوسرے بعض انبیاء کے واقعہ قتل میں بہت بڑا فرق ہے۔دوسرے انبیاء پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں گناہ کئے۔مگر حضرت بیٹی علیہ السلام کی انا جیل میں تعریفیں کی گئی ہیں۔پس حضرت یحیی علیہ السلام کا قتل تو عیسائیوں کے خلاف حربہ قرار پاسکتا ہے۔مگر اور انبیاء کا قتل ان کے خلاف حربہ قرار نہیں پاسکتا۔ان کے متعلق کہنے والا کہہ سکتا ہے۔کہ جیسی قربانی حضرت مسیح علیہ السلام نے کی ویسی ہی قربانی حضرت یحیی علیہ السلام نے کی تی دونوں میں کونسا فرق ہے۔وہ بھی کفارہ ہوئے اور یہ بھی۔غرض عیسائیوں کا فائدہ اسی میں تھا کہ گو حضرت یحیی علیہ السلام شہید ہوئے۔وہ یہی کہتے۔کہ وہ شہید نہیں ہوئے۔مگر باجود اس کے کہ ان کا اپنا مفادان کو شہید تسلیم نہ کرنے میں تھا۔پھر بھی وہ اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق باوجود یکہ رومیوں ، یہودیوں اور عیسائیوں تینوں کا فائدہ اسی امر میں تھا کہ آپ کو صلیب پر فوت شدہ ثابت کریں۔پھر بھی کس طرح حق پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہو گیا۔رومی اور یہودی کہتے تھے کہ آپ صلیب پر فوت ہو گئے مگر انہیں دنوں یہودیوں نے روم کے گورنر کے پاس شکایت کی کہ مسیح کے مرید یہ کہتے پھرتے کی