خطبات محمود (جلد 19) — Page 640
خطبات محمود ۶۴۰ سال ۱۹۳۸ء شہادت مخدوش تھی مگر حضرت یحیی علیہ السلام کے متعلق یہ کہتے میں کہ وہ شہید ہو گئے ہیں ان کی قوم کو کیا فائدہ تھا وہ تو اس امر کی قائل نہیں کہ حضرت یحییٰ ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر ان کے لئے کفارہ بن گئے۔پھر انہیں اپنے پیر کے شہید ہونے کی خبر دینے کا کیا فائدہ تھا۔خصوصاً جب کہ اس وقت بعض یہود کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ جو مارا جائے وہ جھوٹا ہوتا ہے وہ اپنے پیر کو جھوٹا کس طرح بنا سکتے تھے اسی طرح یہودی جب حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر لٹک کر فوت ہوئے تو ہر شخص کو نظر آرہا ہوتا ہے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ حضرت مسیح کو ملعون ثابت کریں مگر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو مقتول قرار دیتے ہیں ان کی یہ غرض تو نہیں ہوسکتی کیونکہ جو یہود ان کے مرید نہ تھے وہ بھی انہیں برگزیدہ انسان تسلیم کرتے تھے اسی طرح عیسائی بھی یہی مانتے ہیں کہ حضرت یحیی علیہ السلام قتل ہوئے تھے حالانکہ ان کو شہید ماننے میں نہ صرف یہ کہ عیسائیوں کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ان پر بہت بڑا اعتراض وارد ہوتا ہے۔وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بے گناہ مانتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی حضرت بیٹی علیہ السلام کو بھی راستباز مانتے ہیں۔پس جب وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ہمارے گناہوں کے بدلہ میں کفارہ ہو گئے تو ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس میں مسیح کی کیا خصوصیت ہے بیٹی نبی کے متعلق بھی تم تسلیم کرتے ہو کہ وہ راستباز اور بے عیب تھا۔پس اگر وہ بھی مارا گیا تو اس کی نسبت بھی کہنا چاہیے کہ لوگوں کے گناہ اٹھا کر لے گیا۔اس صورت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی جو منفردانہ حیثیت ہے وہ بالکل جاتی رہتی ہے۔پس حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید تسلیم کرنے میں عیسائیوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔بلکہ الٹا اُن پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔اور کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یوحنا بھی کفارہ ہو گیا۔اور تم اپنے مسیح کی کی جو خصوصیت پیش کرتے ہو وہ جاتی رہی۔پس حقیقت یہ ہے کہ گو حضرت بیچی قتل ہوئے تھے مگر عیسائی یہی کہتے کہ وہ کوئی قتل نہیں ہوئے تا حضرت مسیح کی اس منفردانہ حیثیت پر حملہ نہ ہو جو وہ پیش کرتے ہیں۔مگر باوجود اس اعتراض کے وارد ہونے کے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ حضرت بیٹی علیہ السلام شہید ہوئے۔پس