خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 627

خطبات محمود ۶۲۷ سال ۱۹۳۸ الہام پا کر ان نبیوں کی صحیح تعداد بھی بتا دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کی کمزوری کی وجہ سے ایک وقت میں کئی کئی نبی معبوث ہوتے تھے اور بائبل سے ثابت ہے کہ جب کوئی بادشاہ خراب ہوتا تو کئی کئی نبی اکٹھے ہو کر اس کے خلاف فیصلہ کرتے تھے۔اصل واقع میں بعد میں بیان کروں گا۔اس وقت صرف یہ بتا رہا ہوں کہ اصولی طور پر بائبل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹا نبی ضرور مارا جاتا ہے مگر یہ نہیں کہ جو مارا جائے وہ جھوٹا ہے۔اس کے متعلق اگر کوئی مشتبہ حوالہ ہو تو اس وقت میرے ذہن میں نہیں لیکن واضح حوالہ کوئی نہیں کی اصل حوالہ لعنتی والا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس میں نبی کی شرط نہیں بلکہ وہاں یہ لکھا ہے کہ جو لٹکا یا جائے وہ ملعون ہو گا اور بات چونکہ عقل کے خلاف ہے۔اس لئے وضاحت کر دی گئی ہے۔جو خدا کے حکم سے پھانسی دیا جائے وہ ملعون ہے لیکن بنی اسرائیل کا چونکہ خیال تھا کہ ہم خدا کے جانشین ہیں اس لئے انہیں بھی یہ خیال پیدا ہو گیا کہ جسے ہم لٹکا دیں وہ ملعون ہو جائے گا اسی کی لئے وہ حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکا کر مارنا چاہتے تھے تا انہیں بھی لعنتی ثابت کر دیں مگر خدا نے آپ کو زندہ بچالیا تا کہ دشمنوں کو جھوٹی خوشی بھی نصیب نہ ہو۔پھر اس کے علاوہ جیسا میں نے بیان کیا ہے احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے که شدید ترین عذاب اُس شخص کو دیا جائے گا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو گا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک گھنٹہ میں ۴۳ نبی قتل ہوئے اور بائبل میں بھی اس امر کی شہادت موجود ہے کہ ایک وقت میں یہودی بادشاہوں نے کئی انبیاء کو قتل کیا۔پھر قاعدہ کے طور پر قرآن کریم نے بھی فرمایا ہے کہ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تقْتُلُون نيز يَقْتُلُو ا ر ا ، پس اصولی طور پر قرآن کریم ، احادیث اور بائبل متینوں متفق ہیں اس امر پر کہ انبیا قتل ہو سکتے ہیں اگر چہ ایسا بہت شاذ ہوتا ہے۔ایسا ہی شاذ جیسا کہ اس قاعدہ کے متعلق شاذ ہے کہ بالعموم دنیا میں ہی اللہ تعالی انبیاء کی نصرت کرتا ہے لیکن بعض ایسے بھی ہیں کہ جن کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ صرف ایک ہی ماننے والا ہو گا مگر یہ استثنائی حالت ہے۔اسی طرح عام قاعدہ کی