خطبات محمود (جلد 19) — Page 626
خطبات محمود ۶۲۶ سال ۱۹۳۸ء کوقتل کا ذکر نہیں۔سلاطین ا باب ۱۸، ۱۹ میں ذکر ہے کہ پچاس نبیوں کو بنی اسرائیل نے قتل کیا۔متی باب ۲۳ آیت ۲۹ تا ۳۱ میں ہے کہ ”اے ریا کا رفقیہو اور فریسیو تم پر افسوس کیونکہ نبیوں کی قبریں بناتے ہو اور راست بازوں کی گوریں سنوارتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے دادوں کے دنوں میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک ہوتے۔اسی طرح تم اپنے پر گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔پھر باب ۲۳ آیت ۳۷ میں لکھا ہے کہ ”اے یروشلم اے یروشلم جو نبیوں کو مار ڈالتی ہے۔ان تمام حوالوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹا نبی ضرور ہلاک ہوتا ہے مگر ان کے یہ معنی نہیں کہ سچا قتل نہیں ہوتا۔بائبل کے علاوہ احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ کو دیکھتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہوا ایک واقعہ لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ دنیا میں دو شخص سب سے زیادہ بد بخت ہوتے ہیں۔ایک وہ حج جو نبی کو قتل کرے اور دوسرا وہ جسے نبی قتل کرے۔مجھے اس وقت خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا تھا کہ حدیث میں بھی یہ ذکر ہے مگر میں نے چونکہ وہ حدیث پڑھی نہ تھی یا مجھے یاد نہ تھی۔یہ حصہ میں نے نہ لکھا تھا لیکن عجیب بات ہے کہ آج اس بارہ میں احادیث دیکھنے پر یہی حوالہ میرے سامنے آ گیا۔چنانچہ مسند احمد بن حنبل میں روایت ہے عن ابن مسعودان رسول الله الله ﷺ قَالَ اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيمَةِ رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِی یعنی ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس کو ملے گا جس نے نبی کو قتل کیا ہو یا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو۔اس حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک نبی کا قتل ممکن ہے۔اسی طرح ابن جریر اور ابن ابی حاتم یعنی حضرت ابو عبیدہ بن الجراح سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یا اَبا عُبَيْدَةَ قَتَلَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ ثَلَاثَةٌ وَارْبَعَيْنَ نَبِيًّا أَوَّلَ النَّهَارِ فِى سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ك يعنی بنی اسرائیل نے ایک دفعہ گھنٹے میں ۴۳ نبیوں کو قتل کیا تھا۔یہ دراصل وہی مضمون ہے جو سلاطین ا باب ۱۸ میں بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے بہت سے نبیوں کو قتل کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے