خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 618

خطبات محمود ۶۱۸ سال ۱۹۳۸ فرمایا ہے کہ بعض دفعہ ساری ساری رات یہی الہام ہوتا رہا ہے کہ اِنّى مَعَ الرَّسُولِ اقوم میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں دوسرے لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ہاں اللہ تعالیٰ کے کی بزرگ اور نیک لوگ ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں مگر اس حد تک نہیں جس حد تک نبی سمجھ سکتا ہے۔نبی نبی ہی ہے۔اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کلام ایسے رنگ میں ہوتا ہے کہ جس کی مثال دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔میرے اپنے الہام اور خواب اس وقت تک ہزار کی تعداد تک پہنچ چکے ہوں گے مگر اُس شخص کی ایک رات کے الہامات کے برابر بھی یہ نہیں ہو سکتے جسے شام سے لے کر صبح تک انسی مَعَ الرَّسُولِ اَقُوْمُ کا الہام ہوتا رہا ہے۔پھر ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے بزرگوں کی عزت کریں کی لیکن جب ہم ان کو انبیاء کے مقابلہ پر کھڑا کرتے ہیں تو گویا خواہ مخواہ ان کی ہتک کراتے ہیں۔ہر شخص کا اپنا اپنا مذاق ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زندگی میں عام طور پر یہ چر چہ رہتا تھا کہ آپ کو زیادہ پیارا کون ہے۔بعض لوگ کہتے تھے بڑے مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اول اور بعض چھوٹے مولوی صاحب یعنی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا نام لیتے تھے۔ہم اس پارٹی میں تھے جو حضرت خلیفہ اول کو زیادہ محبوب سمجھتی تھی۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ دو پہر کے قریب کا وقت تھا، کیا موقع تھا یہ یاد نہیں ، پہلے میں کبھی شاید یہ واقعہ بیان کر چکا ہوں اور ممکن ہے اس میں موقع بھی بیان کیا ہو مگر اس وقت یاد نہیں ، میں گھر میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھ سے یا حضرت اماں جان بھی شاید وہیں تھیں ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر جو احسانات ہیں ان میں سے ایک حکیم صاحب کا وجود ہے۔آپ بالعموم حضرت خلیفہ اول کو حکیم صاحب کہا کرتے تھے۔کبھی بڑے مولوی صاحب اور کبھی مولوی نورالدین صاحب بھی کہا کرتے تھے۔آپ اس وقت کچھ لکھ رہے تھے اور فرمایا کہ ان کی ذات بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک احسان ہے اور یہ ہمارا نا شکرا پن ہوگا اگر اس کو تسلیم نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایک ایسا عالم دیا ہے جو سارا دن درس دیتا ہے پھر طب بھی کرتا ہے اور جس کے ذریعہ ہزاروں جانیں بچ جاتی ہیں۔اور آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ اسی طرح میرے ساتھ چلتے ہیں جس طرح انسان کی نبض چلتی ہے۔