خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 608

خطبات محمود ۶۰۸ سال ۱۹۳۸ کی بناء پر باوجود دونوں فاضلوں کے اختلاف مضمون کے دونوں کے متعلق حسنِ ظن ہے۔مولوی ابوالعطاء صاحب کا مضمون اور طرح کے نظریہ کے لحاظ سے لکھا گیا ہے اور مولا نامولوی محمد اسماعیل صاحب کا مضمون اور طرح کے نظریہ کے لحاظ سے۔مولانا محمد اسمعیل صاحب کا مضمون اس لحاظ سے کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش کردہ حوالہ جات سے مولوی ابولعطا ء صاحب کا مضمون مخالف جہت پر محسوس ہوتا ہے تردید میں لکھنا جماعت احمدیہ کے لئے ایک قابل قدر امر ہے بشرطیکہ علم تنقید صحیح حاصل ہو۔اور اگر مولا نا محمد اسمعیل صاحب کا یہ قابل قدر طرز عمل ہر مخالف مضمون کے مقابل جو سید نا حضرت اقدس کے حوالہ جات سے مخالف جہت پر بصورت تعارض و تخالف پایا جاتا ہو بغرض تنبیہہ مضمون نگار کو متنبہ اور جماعت کے افراد کو علمی مفاد کے لحاظ سے مستفید فرماتے رہا کریں تو یہ بھی ایک فائدہ بخش خدمت ہے گو اس کے متعلق یہ بھی خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ افراد جماعت کی خداداد علمی طاقتیں بجائے اس کے کہ مخالفین کے محاذ میں صرف کی جائیں خانہ جنگی کے طور پر اپنے ہی نقصان کا موجب نہ بن جائیں چنانچہ کئی احباب نے مجھ سے ذکر کیا اور تعجب کرتے ہوئے ذکر کیا کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کا مضمون جو یکم جون کے 'الفضل' میں شائع ہوا ہے اس میں حضرت یونس علیہ اسلام کے متعلق جو کچھ مچھلی کا واقعہ لکھا ہے حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں داخل نہیں کئے گئے تھے اور نہ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر ر ہے یہ نہ صرف قرآن کریم کی نص صریح لَلَبِثَ فِي بَطَنِ کے ہی خلاف ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کی تحریروں میں بھی جس قدر حوالے پائے جاتے ہیں سب کے خلاف ہے اور کسی ایک حوالے سے بھی حضرت ڈاکٹر صاحب کی پیش کردہ بات کی تصدیق نہیں ہوتی اور مولا نا محمد اسماعیل صاحب جنہوں نے مولوی ابوالعطاء صاحب کے مضمون کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ اسلام کے پیش کردہ حوالہ جات کے خلاف پا کر فوراً تر دید میں مضمون لکھ دیا۔کیوں انہوں نے حضرت ڈاکٹر صاحب کے مضمون کی تردید میں حضرت اقدس کے حوالہ جات پیش نہیں کئے اور کیوں خاموشی اختیار کر لی۔میں نے یہی عرض کیا کہ ممکن ہے مولانا صاحب حضرت ڈاکٹر صاحب کے خلاف حضرت اقدس کی تحریروں سے حوالہ جات نکالنے کے لئے کوشش کر رہے ہوں اور پھر حسب دستوران حوالہ جات