خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 569

خطبات محمود ۵۶۹ سال ۱۹۳۸ء کی زبان مبارک سے باتیں سنیں اور بار ہائنیں۔پس میرے لئے کسی کی زبان سے یہ سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کے قائل تھے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید نہیں ہوئے ایسا ہی قابل تعجب ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کے قائل تھے کہ حضرت یحیی علیہ السلام زندہ ہیں اور بجسد عصری آسمان پر بیٹھے ہیں۔ایک دفعہ نہیں بلکہ متواتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے ہم نے یہ سنا اور ایک رنگی میں نہیں بلکہ مختلف رنگوں اور مختلف پیرایوں میں سُنا اور اب ہمارے لئے یہ بات ماننی بالکل کی نا ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قتل یحیی کے قائل نہیں تھے۔پھر صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے سننے کا سوال نہیں بلکہ ہم میں اس بات پر بخشیں ہؤا کرتی تھیں اور ہم ہمیشہ اُس وقت کہا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے تھے مثلاً حضرت خلیفہ امسیح الاوّل اس بات کے قائل تھے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی نبی قتل نہیں ہو سکتا اور ہم ہمیشہ آپ سے اس معاملہ میں بحث کیا کرتے اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں سے حوالہ جات نکال نکال کر کی دکھایا کرتے۔آخر ۱۹۱۰ ء کے قریب انہوں نے اقرار کیا کہ اب آئندہ کے لئے میں اس مسئلہ کو بیان نہیں کروں گا ورنہ پہلے آپ ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ خطا بیات ہیں جیسے علی گڑھ کے سید احمد خان صاحب کہا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں بہت جگہ خطابیات کے طور پر باتیں بیان کی کی گئی ہیں مگر جب ہم نے متواتر حوالہ جات کو نکال نکال کر آپ کے سامنے رکھا اور کئی شہادتیں آپ کے سامنے اس امر کے متعلق پیش کیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی بات کے قائل تھے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید ہوئے ہیں تو آپ نے اُس وقت فرمایا میں سمجھتا ہوں اب مجھے آئندہ کے لئے اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہئے مگر حضرت خلیفہ اول نے بھی اپنے دلائل کے ضمن میں یہ کبھی نہیں فرمایا تھا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسا سُنا ہے۔آپ فرماتے میر اعلم یوں کہتا ہے مگر جب ہم نے ان پر یہ بات ثابت کر دی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کے قائل تھے کہ بعض انبیا ء شہید ہوئے ہیں تو پھر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اب میں خاموش ہو جاتا ہوں اور آئندہ اس کے متعلق کبھی