خطبات محمود (جلد 19) — Page 54
خطبات محمود ۵۴ سال ۱۹۳۸ یقین کا پتہ لگا لیتے ہیں اور جو دوسرے کی غوں غوں کو زیادہ یقینی دیکھتا ہے وہ بھاگ جاتا ہے۔تو طاقت ہمیشہ دل کے ایمان اور یقین سے حاصل ہوتی ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے دلوں میں ایمان اور یقین پیدا کریں۔وہ پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ قرآن کریم نے جو تعلیم دی ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے سچ بولو۔وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے یا نہیں ؟ اور آیا وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ پھر اگر ٹھیک ہے تو اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائیں اور اپنی اولادوں کے اندر بھی اسے قائم کریں۔اسی طرح کی دیانت کا حکم ہے۔وہ دیکھ لیں کہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو پھر خود بھی اس پر عمل کریں اور اپنی اولادوں کے اندر بھی اسے پیدا کریں۔اور اگر وہ اپنی اولادوں کی اصلاح کی طرف ہی توجہ کریں تو یہ چیزیں اگر ان کے اپنے اندر نہ بھی پیدا ہوسکیں تو بھی وہ اپنی اولا دوں میں تو ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔اگر ان سے خود بوجہ اس کے کہ وہ غیر احمدیوں میں سے آئے ہیں کمزوری بھی ہے تو بھی وہ اپنے بچوں کو یہ باتیں ضرور سکھا سکتے ہیں۔اور اگر وہ ایسا کی کر دیں تو ہماری آئندہ نسل ضرور دنیا پر غالب آجائے گی اور سب کے دلوں کو موہ لے گی۔یہ مضمون پہلے بھی میں نے ایک خطبہ میں شروع کیا تھا اور آج بھی اسے بیان کرنے کا ارادہ تھا مگر معلوم نہیں کہ کیا وجہ ہے کہ صبح سے مجھے دورانِ سر کی تکلیف ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا کرتی تھی۔مجھے بھی صبح سے سر میں چکروں کی تکلیف کی ہے اور زیادہ کھڑا نہیں ہو سکتا اس لئے لمبا خطبہ نہیں بیان کر سکتا۔صرف یہ کہتا ہوں کہ جب تک ہماری جماعت اس بات کیلئے کھڑی نہ ہو کہ اسلام کی اصولی اور ابتدائی باتیں جن میں میں نے آج بھی بیان کی ہیں، اپنی اولادوں کے دلوں میں داخل کر دے، اُس وقت تک کبھی احمدیت دنیا میں عملی طور پر قائم نہیں ہو سکے گی اور جب یہ باتیں پیدا ہو جا ئیں تو عملی مخالفت بھی خود بخو دگر جائے گی۔دیکھو ایک جانور کے محض یقین کے ساتھ غرانے سے اس کے مقابل کے جانور بھاگ جاتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ تمہارے دلوں کا یقین تمہارے مخالفوں کے دلوں پر اثر نہ کرے۔جب تم اس یقین اور ایمان کو لے کر کھڑے ہو گے کہ اسلام کی تعلیم صحیح ہے اور تم نے سے دو