خطبات محمود (جلد 19) — Page 511
خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۳۸ء کر سکتی ہے اسے سن کر رحم کرے اور جو فریاد نہیں کر سکتی ان کی کسی فریاد کے بغیر ہی ان کی حالت کو دیکھ کر ان پر رحم کرے۔پھر اس رحم کے تقاضا کے ساتھ رحم کا انتہائی حصہ ہدایت ہوتی ہے۔یعنی جبکہ ایک ہستی یہ چاہتی ہے کہ دوسری کو ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اوپر لے جائے۔رحمت کا ادنی مفہوم شفقت ہے یعنی تکلیف کو دور کرنا اور اس کے اعلیٰ حصہ میں ترقی دینے کی خواہش ہوتی ہے۔ایک تندرست بچہ جسے کوئی بیماری نہیں اس کا معدہ بھی اچھا ہے، اسے کھانے کو بھی مل جاتا ہے ، دیکھنے کے لئے آنکھیں موجود ہیں اور نظارے بھی مہیا ہیں کان ہیں اور اس کے ایسے کی رشتہ دار بھی موجود ہیں جن کی باتیں وہ سن سکے اس کے لئے جسمانی طور پر کسی شفقت کا موقع نہیں کیونکہ اس کی ہر طبیعی ضرورت پوری ہے لیکن اس کی طبعی ضرورتوں کا پورا ہو جانا اسے کسی بلند مقام پر کھڑا نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے اور چیزوں کی ضرورت ہے جو اسے دوسری اشیاء سے ممتاز کر دیں ، اس کے طبعی مقام کو بلند کر کے اسے اوپر لے جائیں جسے دیکھ کر ہر شخص کہے کہ یہ اپنے طبعی مقام سے اوپر پہنچ گیا ہے اور اس طرح اس نے ایک امتیاز حاصل کر لیا ہے اور اس کے لئے تعلیم اور ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے۔پس رحم کا آخری حصہ ہدایت ہے اور اس کا ادنیٰ مقام شفقت ہے۔دوسرے کی کمزوری کو محسوس کرنا اور اسے دور کرنا یہ تو شفقت ہے لیکن جب کوئی کمزوری اور تکلیف نہ ہو تو اسے بلند مقام پر لے جانے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ احسان ہے اور اسے مکمل کرنے کے لئے کی صفت ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے۔جس طرح شفقت کے پورا ہونے کے لئے سمع و بصر کی صفات ضروری ہیں ، اسی طرح احسان کے مکمل ہونے کے لئے ہادی ہونا ضروری ہے اور خدا ہادی ہے ، وہ ہادی بھیجتا بھی ہے اور خود بھی رہنما کی صورت اختیار کرتا ہے اور انسان کے آگے آگے چلتا ہے حتی کہ اسے وہ مقام حاصل ہو جاتا ہے کہ جس کے پانے سے وہ دوسروں سے ممتاز نظر آنے لگ جاتا ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ اُسے دوسری مخلوق سے کچھ امتیاز حاصل تھا اور وہ اپنے اندر کچھ الوہیت کی صفات بھی رکھتا ہے۔ہدایت کا ظاہری نمونہ زبان ہے۔زبان کی گفتگو سے انسان دوسرے کو ہدایت دیتا ہے اور اس کی تکمیل کے لئے حرکت کی ضرورت ہے۔عربی میں ہدایت کے تعین معنے ہیں۔رستہ بتانا،