خطبات محمود (جلد 19) — Page 481
خطبات محمود ۴۸۱ سال ۱۹۳۸ سنی جاتی ہیں۔ایک میاں بیوی کا جھگڑا ایک دفعہ میرے پاس آیا۔میں نے دونوں کے رشتہ داروں کو اکٹھا کیا اور چاہا کہ وہ آپس میں صلح کر لیں مگر اُس وقت صلح تو ایک طرف رہی اُنہوں نے میرے سامنے ایسی لڑائی کی ، ایسی لڑائی کی کہ اس کی کوئی حد نہ رہی۔میں نے بہتیری کوشش کی اور کہا کہ جھگڑا جانے دو اور صلح کر لو مگر وہ کہیں اب صلح کہاں ہو سکتی ہے ، اب ایک کے رشتہ داروں کے دل دوسرے کے رشتہ داروں سے کٹ چکے ہیں اور میاں کا دل بیوی سے بھر چکا ہے اب صلح کی کوشش بالکل عبث ہے مگر اب اُنہی میاں بیوی کے درمیان اتنی محبت ہے کہ اس کی کوئی حدی نہیں۔میں اکثر اُن سے پوچھا کرتا ہوں بتا ؤ صلح ہو سکتی تھی کہ نہیں ؟ وہ کہتے ہیں جانے بھی دیجیئے وہ تو ہماری بے وقوفی کی بات تھی۔تو ایک وقت ایسا آیا جب کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے درمیان صلح بالکل ناممکن ہے مگر اب وہ دنیا کے اچھے خوش جوڑوں میں سے ہیں اور ان کے درمیان اچھی محبت اور پیار ہے اور ان کی دینی حالت بھی بہت کچھ سدھر گئی ہے۔مگر وہ بھی اور ان کے کی رشتہ دار بھی اُس مجلس میں یہی کہتے تھے کہ اب دل پھٹ چکے ہیں صلح کی کوششیں سب عبث ہیں اور اب دوبارہ محبت کسی طرح پیدا نہیں ہو سکتی۔تو ایسے کیس میں نے بہت دیکھے ہیں جہاں دوستیاں دشمنیوں سے اور دشمنیاں دوستی سے بدل جاتی ہیں اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی سے محبت کرو تو حد کے اندر کرو کیا معلوم کل تم آپس میں دشمن بن جاؤ اور کی جب کسی سے دشمنی کرو تو حد کے اندر کرو کیا معلوم کل تم آپس میں دوست بن جاؤ۔ھے تو یہ جنہوں نے کہا ہے کہ منافقت حکومت کی وجہ سے ہوتی ہے ، بالکل غلط ہے اور اگر اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو حکومت سے مراد فوجوں والی حکومت نہیں ہوگی بلکہ اس سے مراد نظام ہو گا۔چاہے وہ ایک آئینی نظام ہو اور چاہے وہ ایک طبعی نظام ہو جیسے دوستوں میں ایک رنگ کی حکومت ہوتی ہے۔یا جیسے چور اور ڈا کو اپنے میں سے ایک کو سردار سمجھ کر اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔بے شک وہ بعض دفعہ با قاعدہ طور پر بھی اپنا لیڈر چن لیتے ہیں لیکن بعض دفعہ آپ ہی آپ ایک کی برتری اور فوقیت کو تسلیم کر لیتے ہیں۔چاہے یہ برتری عقل کی وجہ سے ہو، چاہے علم کی وجہ سے ہو ، چاہے مال کی وجہ سے ہو اور باقی آپ ہی آپ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔