خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 455

خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۸ وجہ یہی ہے کہ جس طرح مجنون ہلاکت کی پرواہ نہیں کرتا اسی طرح ایمان والا بھی نہیں کرتا اور ہر خطرہ میں اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے اس لئے لوگ اسے بھی پاگل سمجھتے ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی طاقتوں کو نڈر اور بے پرواہ ہو کر استعمال کرنے میں مجنون اور مؤمن میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔اور اس طرح ان کی طاقت میں بھی مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔جس طرح پاگل پر جب جنون کا دورہ ہو تو اُسے آٹھ دس آدمی بمشکل قابو کر سکتے ہیں اسی طرح مؤمن کو بھی جب کی وہ جوش کی حالت میں ہو اُس کے مخالف دبا نہیں سکتے اور جتنا کسی کا ایمان مضبوط ہو اتنی ہی کی زیادہ طاقت اس کے اندر ہوتی ہے۔حتی کہ جب وہ نبی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو ساری دنیا مل کر اسے پکڑنا چاہتی ہے مگر نہیں پکڑ سکتی۔پس اپنے اندر یہ ایمان پیدا کرو پھر کوئی خطرہ باقی نہیں رہے گا۔تحریک جدید کے لئے علیحدہ سیکرٹری مقرر کرنے کے لئے جو میں نے کہا تھا اُس کی غرض یہ تھی کہ ایسے آدمی ہوں جو مستقل مزاج ہوں اور رات دن اپنے آپ کو اس کام میں لگائے رکھیں لیکن افسوس ہے کہ بعض سیکرٹری صرف نام کے لئے بن گئے ہیں اور کام کچھ نہیں کرتے۔ان کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خالی نام خدا تعالیٰ کے حضور کوئی فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ نام حاصل کرنے سے پہلے ان پر کوئی الزام نہ تھا لیکن نام لینے کے بعد اگر وہ کام نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ کی کی لعنت کے مستحق ہونگے اس لئے ہر سیکرٹری کو چاہئے کہ تن دہی سے کام کرے۔پہلے خود تحریک جدید اور اس کی ہدایتوں کا مطالعہ کرے اور پھر اس کے مطابق جماعت سے کام لے۔دیکھو یہ کتنا اہم کام ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر دوستوں نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ ورثہ کی تقسیم شریعت کے مطابق کیا کریں گے اور عورتوں کو حصہ دیا کریں گے مگر منہ سے کہنا آسان ہے اور عمل کرنا مشکل ہے۔سیکرٹریوں کو دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا اس کے مطابق کام ہوا اور اس عرصہ میں جو لوگ فوت ہوئے اُن کا ورثہ مطابق شریعت تقسیم ہوا ؟ اگر نہیں تو انہوں نے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب اتنی وسیع ہے کہ اس عرصہ میں پچاس ساٹھ بلکہ سو ایسے دوست ضرور فوت ہو چکے ہوں گے جن کے ورثہ کے متعلق سوال پیدا ہو ا ہو گا مگر میرے پاس ایک مثال بھی ایسی نہیں آئی کہ کوئی زمیندار فوت ہوا ہو اور اُس کا ترکہ