خطبات محمود (جلد 19) — Page 456
خطبات محمود ۴۵۶ سال ۱۹۳۸ء شرع کے مطابق تقسیم ہوا ہو۔تو تحریک جدید کے کارکن جب تک اپنی ذمہ داری کو محسوس نہ کریں گے خالی نام ان کو کچھ فائدہ نہ دے سکے گا۔انہیں چاہئے کہ اپنے کام کاج کا حرج کر کے بھی اس طرف متوجہ ہوں۔اپنے اندر ایک جنون پیدا کریں۔مجنون کو بعض اوقات وہ چیز میں نظر آجاتی ہیں جو دوسروں کو نہیں آتیں۔جس طرح نبی کو بھی وہ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو دوسری دنیا نہیں دیکھ سکتی۔یہی وجہ ہے کہ لوگ کئی مجنون لوگوں کو مجذوب قرار دے کر ولی اللہ بنا دیتے ہیں۔لیکن کی بات صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کی مخفی دماغی قوتیں بعض اوقات نمایاں ہو جاتی ہیں اور وہ شاذ و نادر طور پر غیر معمولی باتیں معلوم کر لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ لا ہور تشریف لے گئے۔بعض دوستوں نے تحریک کی کہ شاہدرہ میں ایک مجذوب رہتا ہے اُس کے پاس جانا چاہئے مگر بعض دوسرے دوستوں نے اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ نہائت گندی گالیاں بکتا ہے اُس کے پاس نہیں جانا چاہئے مگر جو جانے کے حق میں تھے انہوں نے کہا کہ آپ کو الہام ہوتا ہے دیکھنا چاہئے وہ کیا کہتا ہے۔آپ خود بھی انکار کرتے رہے مگر دوست اصرار کر کے لے گئے۔آپ نے فرمایا کہ جب ہم وہاں پہنچے وہ کی گالیاں دیتے دیتے یکدم خاموش ہو گیا۔اس کے پاس ایک خربوزہ رکھا تھا اُسے اُٹھا کر میرے پیش کیا اور کہنے لگا کہ یہ آپ کی نذر ہے دیکھنے والے اُس کے اور بھی معتقد ہو گئے مگر آپ نے فرمایا کہ وہ پاگل تھا۔تو بعض اوقات پاگل کو بھی ایسی باتیں نظر آ جاتی ہیں جو عظمند نہیں دیکھ سکتے۔وہ چونکہ دنیا سے منقطع ہو چکا ہوتا ہے اس لحاظ سے اُسے بھی کسی وقت غیب کی باتیں نظر آجاتی ہیں۔مؤمن کا تعلق پاللہ شریعت کے مطابق ہوتا ہے اس لئے جب وہ کشف کی حالت میں ہوتا ہے نیکی کا نمونہ ہوتا ہے اور جب کشف سے باہر ہوتا ہے تب بھی نیکی اور عقل کا نمونہ ہوتا ہے کہ لیکن پاگل جب اپنی حالت میں ہوتا ہے عقل سے بے بہرہ ہوتا ہے اور جب اسے افاقہ ہومحض دنیا کا ایک کیڑا ہوتا ہے۔صرف دماغ کی خرابی کی وجہ سے بعض دفعہ اس کی مخفی طاقتیں بیدار ہو جاتی ہیں لیکن ولی اللہ کی طاقتیں اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے بیدار ہوتی ہیں۔نیز پاگل کو تو اتفاقی طور پر کبھی کوئی بات معلوم ہوتی ہے لیکن مؤمن پر اللہ تعالیٰ کا نور ہر وقت نازل ہورہا ہوتا ہے ج