خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 43

خطبات محمود ۴۳ سال ۱۹۳۸ء قیمت اُس بڑھیا سے بھی زیادہ لگاتے تھے جو اپنی روئی کے گالوں سے یوسف کی خریداری کیلئے گئی تھی۔کیونکہ اس نے تو یوسف کو جو ابھی تک نبی نہیں تھے اور ایک غلام کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے، اپنی تھوڑی سی پونجی کے ساتھ خریدنا چاہا تھا۔مگر یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام نبیوں کے سردار ہیں اور خاتم النبین ہیں، ان کی قربانیوں کی قیمت اپنی دو چار سال کی حقیر مالی قربانیوں کے مطابق لگانا چاہتے تھے لیکن یاد رکھو! ایسے لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔دین کی فتح ان لوگوں کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ انہی کے ہاتھوں سے ہوتی ہے جو نتائج اور انجام سے غافل ہو کر صرف ایک ہی بات کو اپنے سامنے رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنی موت تک ہم نے قربانیاں کرتے چلے جانا ہے اور ہمارے آرام کا وقت وہی ہوگا جب کہ ہم اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے حقیقی مولا کی گود میں جا بیٹھیں گے۔تم ایک چھوٹے سے بچے کو جس کو محاورے کے طور پر بھی نادان بچہ کہتے ہو، دنیا کی قیمتی سے قیمتی مٹھائیوں یا عمدہ سے عمدہ کھلونوں سے تھوڑی دیر کیلئے پہلا سکتے ہو لیکن اس بیوقوف اور نادان بچے کو بھی اپنی ماں کی یاد سے ہمیشہ کیلئے غافل نہیں کر سکتے۔بسا اوقات وہ دنیوی نعمتوں کے کھانے یا ان کے حسن کے نظاروں کے دیکھنے سے ایک منٹ کیلئے یا چند منٹوں کیلئے اپنی ماں کی طرف سے خیال ہٹالے گا لیکن پھر اس کا خیال ادھر ہی چلا جائے گا اور اس کو حقیقی راحت تبھی نصیب ہوگی جب وہ اپنی ماں کی گود میں پہنچ جائے گا۔پھر جبکہ ایک نادان بچے کا یہ حال ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ مؤمن جو داناؤں کا دانا ہوتا ہے اپنے خدا کے ملنے سے پہلے چین پا جائے اور اسے آرام حاصل ہو جائے۔اس کی راحت کی گھڑیاں اور اس کے آرام کی ساعتیں تو اُسی وقت سے شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنے جسم خاکی کو اس دنیا میں چھوڑ کر اپنے رب کی طرف دیوانہ وار دوڑتا ہوا چلا جاتا ہے۔جس طرح پرندہ شام کو لہلہاتے ہوئے کھیتوں اور للچانے والے دانوں کے ڈھیروں کو چھوڑ کر اڑتا ہوا اپنے بسیرے کی طرف جاتا ہے، اسی طرح مؤمن کی روح موت کے وقت اپنے رب کی طرف بھاگتی ہے اور پیچھے مڑ کر بھی تو نہیں دیکھتی کہ میں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ہے کیونکہ اس کی خوشیاں اس کے آگے ہوتی ہیں نہ کہ پیچھے۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ ایمان پیدا کرے، اُس کو اپنی لذت اور اپنی راحت خدا میں