خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 44

خطبات محمود ۴۴ سال ۱۹۳۸ء بنانی چاہئے اور یہ کبھی امید نہیں کرنی چاہئے کہ کوئی ایک قربانی یا دوسری قربانی اس کے حقوق کو ادا کر دے گی کیونکہ حقوق قربانیوں سے ادا نہیں ہوتے بلکہ قربانیوں کے متواتر اور مستقل ارادوں سے ادا ہوتے ہیں۔پس جو کچھ میں نے کہا تھا وہ کسی وقتی جوش دلانے کیلئے نہیں کہا تھا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کی سلامتی کیلئے متواتر قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور موت سے کوشش کے چھوڑ دینے کا خیال اندرونی بے ایمانی کی علامت ہے اور ایسے شخص کیلئے خطرہ ہے کہ اگر آج اس کا ایمان سلامت ہے تو کل سلامت نہ رہے اور مرنے سے پہلے کسی وقت وہ ٹھوکر کھا جائے اور اپنے انعامات جو پہلی قربانیوں سے اس نے جمع کئے تھے، اس کی اس غفلت کی کی وجہ سے کسی اور مومن کومل جائیں جو کہ پہلے ٹھو کر کھایا ہوا تھا لیکن مرنے سے پہلے خدا کی طرف متوجہ ہو گیا کیونکہ نتائج انسان کی زندگی کے کاموں کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ انسان کے انجام کے مطابق ہوتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ یہ ظلم ہے کہ خدا انسان کی زندگی کے کاموں کو تو نظر انداز کر دیتا ہے لیکن آخری گھڑیوں کے کاموں کو قبول کر لیتا ہے کیونکہ آخری گھڑی کی حالت در حقیقت پہلے کاموں کا نتیجہ ہوتی ہے۔وہ جس کی پہلی زندگی اچھی نظر آتی ہے لیکن اس کا انجام خراب نظر آتا ہے اس کا انجام اسی لئے خراب ہوتا ہے کہ اس کی پہلی زندگی گو بظاہر خوشنما تھی لیکن خدا کی نگاہ میں وہ گندی تھی۔تم کبھی بھی یہ امید نہیں کر سکتے کہ گوبر کی گولیوں پر کھانڈ چڑھا کر مریضوں کو شفا کی دے سکو یا بھوکوں کے پیٹ بھر دو کیونکہ باہر کی کھانڈ اندر کے مُحبت کا علاج نہیں ہو سکتی۔پس وہ کی جس کا انجام خراب ہوتا ہے یا کمزور نظر آتا ہے وہ اسی لئے خراب ہوتا ہے اور اسی لئے کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کی پہلی زندگی بناوٹی تھی اور منافقانہ تھی اور خدائے علیم وخبیر جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے اس نے نہ چاہا کہ یہ غیر مستحق حق والوں کا حق لے جائے۔پس اس نے مرنے سے پہلے اگر یہ ایمان کے ضائع ہو جانے کا مستحق تھا تو اس کے ایمان کو ضائع کر دیا اور اگر یہ ایمان کے کمزور ہونے کا مستحق تھا تو اس نے اس کے ایمان کو کمزور کر دیا۔یہی حال اس کا ہے جس کا نتیجہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔یعنی اس کی پہلی زندگی تو خراب ہوتی ہے لیکن اس کا انجام اچھا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو اس لئے اچھا نہیں کرتا کہ وہ بغیر کسی مقصد کے ایک شخص