خطبات محمود (جلد 19) — Page 421
خطبات محمود ۴۲۱ سال ۱۹۳۸ء اصل بات یہ ہے کہ قانونِ انگریزی میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اگر کوئی ملزم نہایت غریب ہو اور وہ خود یا اس کے رشتہ دار یہ طاقت نہ رکھتے ہوں کہ مقدمہ لڑ سکیں اور مجرم سنگین ہو تو ملزم کو سرکاری وکیل مہیا کیا جاتا ہے اور سر کاراپنے خرچ پر وہ مقدمہ لڑتی ہے۔چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ہائی کورٹ میں شیخ بشیر احمد صاحب کو حکومت نے خود فیس دے کر کھڑا کیا اور پریوی کونسل میں بھی گورنمنٹ کی طرف سے وکیل مقرر ہوا۔پس یہ کہنا کہ ایک غریب آدمی ہائی کورٹ اور پھر پریوی کونسل تک کس طرح پہنچ گیا۔یہ ہم پر اعتراض نہیں کی بلکہ اپنے علم پر اعتراض ہے اور اس امر کا اظہار ہے کہ اپنے ملکی قانون کو بھی وہ نہیں جانتے جس نے یہ دستور مقرر کر رکھا ہے کہ جب کسی ملزم کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ غریب ہے تو گورنمنٹ خود روپیہ دے کر اس کی طرف سے وکیل کھڑا کر دے اور ملزم کو پوری طرح اپنی بریت پیش کرنے کا موقع دے چنانچہ سرکاری طور پر ہمیشہ ایک لسٹ ایسے وکلاء کی تیار رہتی ہے اور ان کی فیسیں بھی اس کی طرف سے مقرر ہوتی ہیں۔جب کوئی ایسا غریب شخص ملزم ہو جو کی مقدمہ چلانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس وقت ان وکلاء میں سے کسی ایک کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تم اس ملزم کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرو اور فیس ہم سے لو۔جب اس مقدمے کا پہلی دفعہ فیصلہ ہوا ہے تو چونکہ افسروں کو علم تھا کہ لوگوں سے چندہ جمع کر کے اس مقدمہ کے اخراجات پورے کئے گئے ہیں اس لئے جیل خانے والوں نے میاں عزیز احمد صاحب سے پوچھا کہ تم اپیل کرنا چاہتے ہو یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک اس مقدمہ پر جتنا روپیہ خرچ ہوا ہے یہ بھی بعض دوستوں نے میرے ہم وطنوں اور تعلق رکھنے والوں سے چندہ کے طور پر جمع کیا تھا اور اب تو وہ روپیہ بھی خرچ ہو چکا ہے اور میرے پاس ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے کوئی خرچ نہیں۔انہوں نے کہا۔تم حکومت کو ایک درخواست دو جس میں لکھو کہ میں غریب آدمی ہوں اور میرے پاس مقدمہ چلانے کے لئے کوئی روپیہ نہیں میری مدد کی جائے اور میری اپیل کے لئے اخراجات کا انتظام فرمایا جاوے ہم اس پر تحقیقات کریں گے اور اگر کسی واقعہ میں ثابت ہو گیا کہ تم غریب آدمی ہو اور مقدمہ چلانے کے لئے تمہارے پاس روپیہ نہیں ہے تو حکومت اپنے پاس سے ان اخراجات کا انتظام کر دے گی۔