خطبات محمود (جلد 19) — Page 420
خطبات محمود ۴۲۰ سال ۱۹۳۸ء قرار دے دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ صرف یہی ایسا نہیں بلکہ اس کا باپ اور اس کے بھائی کی بھی سلسلہ کے غدار ہیں کیونکہ وہ اس کی مدد کرتے ہیں حالانکہ امور عامہ بھی ابتداء میں الزام لگاتا ہے اور جب تک وہ الزام پایہ ثبوت تک نہیں پہنچ جاتا اُس وقت تک ملزم ہرگز مجرم نہیں بن سکتا اور نہ اس کی مدد کرنے والا غدار کہلا سکتا ہے۔جب شریعت ملزم کی مدد کو غداری قرار نہیں دیتی تو کسی اور کا کیا حق ہے کہ اسے غداری قرار دے دے۔اس کے مقابلہ میں بعض لوگ اس پر چڑتے ہیں کہ انہیں جائز و نا جائز وسائل سے ملزم کی امداد کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے۔یہ دونوں غلطی پر ہیں ملزم کی جائز امداد ہر گز غداری نہیں۔اگر امور عامہ کی ہر بات درست ہو تو پھر قضاء کا دروازہ شریعت نے کیوں کھولا ہے۔قضاء کے محکمہ کا قیام شریعت کی طرف سے اسی لئے کیا گیا ہے کہ جب تک قاضی کوئی فیصلہ نہ کر دے شریعت ملزم کو مجرم قرار نہیں دیتی اور جب شریعت اسے مجرم نہیں سمجھتی تو اس کی امداد کرنا غداری کس طرح ہوسکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے جُرم کا ذاتی علم ہو۔مثلاً اگر کسی کو ذاتی طور پر علم ہو کہ فلاں نے چوری کی ہے اور پھر وہ اس کی مدد کرتا ہے تو وہ مجرم ہے لیکن ملزم کی امداد جس کا مجرم قضاء یا علماً ثابت نہیں بہر صورت جائز ہے۔پھر جو لوگ اس بات پر چڑتے ہیں کہ انہیں جائز و نا جائز وسائل سے ملزم کی امداد کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے وہ بھی غلطی پر ہیں کیونکہ نا جائز امداد ہرگز قابل برداشت نہیں جس طرح اوّل الذکر کو غدار کہنا غلط ہے اسی طرح ثانی الذکر کو محض ملزم کی امداد کرنے والا بھی کہنا کی دھوکا ہے۔اس سوال کا جواب میں نے تفصیل سے اس لئے بیان کیا ہے تا جماعت کی بعض اصول میں راہنمائی ہو جائے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتراض کا جواب بہت مختصر ہے۔اصل اعتراض صرف یہ ہے کہ ایک غریب آدمی ہائی کورٹ اور پھر پریوی کونسل تک کس طرح پہنچ سکتا تھا۔ضرور ہے کہ جماعت نے اس کی مدد کی ہو۔اس کا اصولی جواب تو وہی ہے کہ جو میں بیان کر چکا ہوں کہ یہ اعتراض محض نا واقفیت کا نتیجہ ہے کیونکہ قانون ملزم کی امداد کرنے سے نہیں روکتا۔دوسرا جواب واقعات کی بناء پر ہے کہ یہ اعتراض محض واقعات سے بے خبری کے سبب سے ہے۔ہم نے نہ ہائی کورٹ میں نہ پر یوی کونسل میں روپیہ خرچ کیا ہے۔