خطبات محمود (جلد 19) — Page 42
خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۸ء ہوسکتیں ، وہ ایک سجدے کے قائم مقام بھی نہیں ہو سکتیں ، وہ سجدہ کی ایک تسبیح کے قائم قام بھی نہیں ہو سکتیں۔جس طرح کل کی کھائی ہوئی دس روٹیاں آج صبح کے وقت ناشتہ کے ایک لقمہ کی کفایت کی بھی نہیں کر سکتیں اسی طرح وہ روحانی عبادتیں یا جسمانی قربانیاں جو انسان ماضی میں کرتا ہے اور ان پر تو کل کر کے چاہتا ہے کہ مستقبل کی قربانیوں سے آزاد ہو جائے وہ اس کو کوئی فائدہ نہیں کی پہنچا سکتیں۔وہ اگر ایسی بیوقوفی کرے گا تو یقینا اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہوگا۔وہ جو خدا کی جماعتوں میں داخل ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ہر آن انہیں اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنا کی چہرہ ہمیشہ قربانیوں کے آئینہ میں ہی دکھاتا ہے۔میں نے گزشتہ سالوں میں کہا تھا کہ وہ شخص جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں موت سے پہلے کسی وقت بھی قربانیوں سے آزاد ہو سکتا ہوں وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان کمزور ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی فوج کا سپاہی بننے کے قابل نہیں ہے۔مجھے افسوس ہے کہ جہاں جماعت کے ایک حصہ نے میری اس بات کو انہی معنوں میں سمجھا ہے جن معنوں میں کہ میں نے اسے بیان کیا تھا وہاں ایک حصہ جماعت کا ایسا ہے جس نے یہ خیال کیا کہ شاید میں یہ باتیں صرف اس وقت کیلئے اور ان قربانیوں کے کیلئے جوش پیدا کرنے کی خاطر کہہ رہا ہوں جن کا اس وقت مطالبہ کیا گیا تھا اور وہ اپنے دلوں کی میں یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شاید ہماری تین سال کی قربانیاں جو صرف چند حقیر رقموں پر مشتمل تھیں ، وہ زمین و آسمان کا نقشہ بدل ڈالیں گی اور ان چند روپوں میں وہ کام ہو جائے گا جو تئیس سال کی کچ ہر قسم کی قربانیوں کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان میں صحابہ کر سکے تھے۔گویا ان لوگوں نے اپنے چند روپوں کی قربانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی رات اور دن کی جانکا ہیوں اور قسما قسم کی مصیبتوں اور بے وطنیوں اور جائیدادوں کے چھینے جانے اور اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں اور اپنی بیویوں کے مارے جانے اور خود ان میں سے کئیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جانے اور قسم قسم کے عذابوں سے مارے جانے اور سردیوں اور شدید گرمیوں میں کھانے اور پینے کے سامانوں کے بغیر بے آب و گیاہ جنگلوں میں سے بعض دفعہ بغیر سواری کے اور بعض دفعہ ننگے پاؤں سفر کرنے اور پھر اپنے سے کئی کئی گنا زیادہ کی تعداد والے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی قیمت کے برابر خیال کر رکھا تھا۔شاید وہ اپنے روپوں کی