خطبات محمود (جلد 19) — Page 41
خطبات محمود ۴۱ سال ۱۹۳۸ء پس وہ لوگ جو کہ قربانیوں میں تھک جاتے ہیں وہی لوگ ہیں جو کہ خدا تعالیٰ سے سو دا کرنا ہی چاہتے ہیں اور ان کی غرض خدا تعالیٰ کی محبت نہیں ہوتی بلکہ دنیوی فوائد ہوتے ہیں۔جب کچھ عرصہ کی قربانیوں کے بعد وہ خیال کرتے ہیں کہ اب ہمیں دنیوی انعامات مل جانے چاہئیں لیکن وہ انعامات حاصل نہیں ہوتے تو وہ تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے قربانیوں میں جو حصہ لینا تھا لے لیا، اب ہمیں مزید قربانیوں کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ وہ لوگ جو کل کی غذا کو آج کی غذا کیلئے کافی نہیں سمجھتے اور آج کے دن کیلئے نئی غذا کے طالب ہوتے ہیں بلکہ دن میں کئی کئی دفعہ کھانے اور پینے کی طرف رغبت کرتے ہیں۔وہ کبھی نہیں کہتے کہ ہمارا کل کا کھانا اور کل کا پینا ہمارے آج کیلئے کافی ہو گیا ہے بلکہ وہ آج کل سے بھی زیادہ اچھے کھانے اور زیادہ شیریں پانی کی جستجو کرتے ہیں لیکن خدا کے دین کی قربانیوں کے موقع پر جو کہ انسان کیلئے روحانی کی غذا ہیں ، وہ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ ہماری کل کی غذا آج کیلئے بھی کافی ہوگی اور آئندہ آنے والے دنوں میں بھی وہی ہماری طاقت کو بڑھاتی چلی جائے گی حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ جس کی طرح جسم کو بار بار غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روح کو بھی بار بار غذا کی ضرورت ہوتی کی ہے۔اور جب تک روح کو بار بار غذا نہ پہنچے جو بار بار کی قربانیوں اور متواتر قربانیوں کے ذریعہ سے پہنچ سکتی ہے، اُس وقت تک روحانی زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔اگر تم آج ظہر کے وقت بار رکعتیں پڑھ لو۔اسی طرح عصر کے وقت بارہ پڑھ لو اور پھر مغرب کے وقت کو پڑھ لو اور پھر عشاء کے وقت بارہ پڑھ لو اور دوسرے دن صبح چھ پڑھ لو اور یہ امید رکھو کہ آئندہ دو دن یہ پانچوں نمازیں تم چھوڑ سکتے ہو کیونکہ تم نے خدا کا حق وقت سے بھی پہلے ادا کر دیا تو یہ مت سمجھو کہ یہ بات کی تمہارے ایمان کے بڑھانے کا موجب ہوگی بلکہ وہ سب سے پہلی نماز جسے تم اس وہم کی وجہ سے چھوڑ دو گے، تمہارے ایمان کو باطل کرنے والی ہو جائے گی اور تم یہ نہیں کہہ سکو گے کہ ہم نے تو یہ نماز پہلے ہی دن ادا کر دی تھی۔تم اگر پہلے دن فرض رکعتوں کے علاوہ سو سو رکعت بھی اور پڑھ جاؤ تو دوسرے دن اپنے وقت پر نئے فرض ادا کرنے پڑیں گے۔وہ سو رکعتیں ورکعتوں کے قائم مقام تو الگ رہیں وہ دوسرے دن چار رکعتوں کے قائم مقام بھی نہیں ہوسکتیں ، وہ دو رکعتوں کے قائم مقام بھی نہیں ہوسکتیں ، وہ ایک رکعت کے قائم مقام بھی نہیں