خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 402

خطبات محمود ۴۰۲ سال ۱۹۳۸ء ان سے مشورہ لیا اور انہیں مناسب ہدایتیں دیں۔غالبا مرزا عبدالحق صاحب اور مولوی فضل الدین کی صاحب وکیل سے کہا گیا کہ وہ لوگوں سے گواہیاں لیں چنانچہ انہوں نے مقدمہ کی تیاری شروع کر دی لیکن دو تین دن کے بعد جبکہ مختلف بیانات اکٹھے ہوئے اور ان کا مجھ سے ذکر کیا گیا تو مختلف شہادتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہمارا پہلا علم غلط فہمی پر مبنی تھا۔حقیقت یہ ہے کہ میاں عزیز احمد صاحب کی طرف سے پہلا حملہ ہوا ہے ، دفاع نہیں ہوا۔مجھے جب یہ معلوم ہوا تو میری طرف سے اسی وقت ہدایت کر دی گئی کہ جماعت اس بارہ میں بحیثیت جماعت ان کی مدد نہ کرے۔چنانچہ مرکز سلسلہ نے اپنی مددوا پس لے لی۔در حقیقت مرزا عبد الحق صاحب نے جب مختلف بیانات آکر مجھے سنائے تو اس وقت میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ پہلا حملہ میاں عزیز احمد صاحب پر نہیں بلکہ میاں فخر الدین صاحب پر تھا۔چنانچہ میں نے انہیں کہہ دیا کہ اس تحقیق کے بعد ہمارا حق نہیں کہ ہم ملزم کی براءت ثابت کریں۔مرزا صاحب میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہی تھے کہ چند منٹ بعد ناظر صاحب امور عامہ آئے۔انہوں نے بیان کیا کہ میاں بشیر احمد صاحب کا خیال ہے کہ اس وقت تک جس نتیجہ پر ہمارے دوست پہنچے ہیں وہ غلط ہے کیونکہ بعد میں بعض گواہیاں ایسی ملی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پہلا حملہ میاں عزیز احمد صاحب نے کیا ہے۔اس پر میں نے انہیں بتایا کہ ابھی ابھی میں بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں اور میں ہدایت دے چکا ہوں کہ ہماری طرف سے جماعتی طور پر ان کے لئے کوئی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔یہ غلط نہی کیونکر ہوئی ؟ اس کے متعلق پہلے بھی شائع ہو چکا ہے۔اصل بات یہ ہوئی کہ لڑائی دو جگہ پر ہوئی تھی۔یعنی پہلے بازار کے اُس حصہ میں جہاں نسبتا ہندو سکھ اور غیر احمدی دکاندار زیادہ ہیں اور یہاں میاں عزیز احمد صاحب نے پہلا حملہ کیا پھر چند گز ہٹ کر اس جگہ پر جہاں احمدی دکاندار زیادہ ہیں۔یہاں میاں فخر الدین صاحب کے ساتھیوں نے ہا کی مار کر اسے گرایا اور چوٹیں کھانے کے بعد میاں عزیز احمد صاحب نے مدافعانہ حملہ کیا۔پس وہ گواہ جن کی گواہی سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ پہلا حملہ میاں عزیز احمد صاحب نے نہیں کیا