خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 4

خطبات محمود ۴ سال ۱۹۳۸ء اتنی متضاد باتیں ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت آتی ہے اور دونوں میں سے ایک بات ضرور بناوٹ معلوم ہوتی ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں اس کی اپنی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔اگر اس کی اپنی کتابوں میں یہ باتیں موجود نہ ہوتیں تو ہم سمجھتے کہ ابن رشد کی طرف جو فلسفہ منسوب کیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔مگر ابن رشد کا فلسفہ بھی اس کی اپنی کتابوں میں پایا جاتا ہے اور دینداری کی باتیں بھی اس کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور اس کی فقہ کی کتابیں آج تک مسلمانوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔غرض وہ متضاد خیالات کا مجموعہ تھا اور اسی کا یہ فلسفہ تھا کہ خدا تعالیٰ کو مخلوق کا گلی علم ہے حجز ئی نہیں۔یورپ کے موجودہ فلسفہ پر اس کے فلسفہ کا نہایت گہرا اثر ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا دادا یہودی سے مسلمان ہوا تھا اور سپین اور فرانس کے یہودی علماء قومی تعلق کی وجہ سے اس کی کتابوں کا بہت درس دیا کرتے تھے اور چونکہ ابتداء میں علومِ جدیدہ کا رواج ہسپانیہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کے ذریعہ سے ہوا ہے، اس لئے سارے سپین میں اس کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں اور سو سال قبل تک بھی یورپ کی یونیورسٹیوں میں اس کی کتابیں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔اس لئے موجودہ فلسفہ بہت حد تک اس کے خیالات سے متاثر ہے۔غرض یہ خیال کہ خدا تعالیٰ ہر چیز کو نہیں جانتا اس کی بنیاد اسی امر پر ہے کہ انسان اپنی محدود طاقتوں سے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ لگاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ جب انسان ہر چیز کو نہیں دیکھ سکتا ، جب انسان تمام دنیا کی آوازوں کو نہیں سن سکتا ، تو خدا کس طرح تمام چیزوں کو دیکھ سکتا اور تمام آوازوں کو سُن سکتا ہے اور اس طرح وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا علم اور خدا تعالیٰ کا دیکھنا اور خدا تعالیٰ کا سننا سب انسانوں کی طرح ہے اور جس طرح انسان کو درمیانی واسطوں کی ضرورت ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کو بھی درمیانی واسطوں کی ضرورت ہے۔مگر آج دیکھو! وہ کمزور انسان جو خدا تعالیٰ کی طاقتوں کو گرا ر ہے تھے انہیں خدا نے کہا تم تو ہماری طاقتوں کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔آؤ میں تمہاری اپنی طاقتوں کو اُبھارتا اور تمہیں بتاتا ہوں کہ تم اپنی آواز کو کہاں کہاں تک پہنچا سکتے ہو اور تم کتنے دُور دُور مقام کی آواز بخوبی سن سکتے ہو۔چنانچہ اُس نے وائرلیس ایجاد کروا کے بتا دیا کہ جب تمہارے جیسی ذلیل، ناپاک اور حقیر ہستی ساری دنیا کی