خطبات محمود (جلد 19) — Page 5
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء آوازیں وائرلیس کے ذریعہ سُن سکتی اور ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکتی ہے تو کیا وہ خدا جو تم کو پیدا کرنے والا ہے وہ تمہاری آوازیں نہیں سن سکتا۔پس اسی فلسفہ کی تعلیم کے نتیجہ میں جن علوم نے ترقی کی ، آج ان علوم کے ذریعہ جب انگلستان کا ایک ڈوم یا میراثی یا ایک گانے والی کنچنی جب ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا رہی ہوتی ہے تو فضا کی ہر حرکت اور آواز کی ہر جنبش رپ کے فلسفیوں پر قہقہے لگا رہی ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ کم بختو ! اب بتاؤ کیا خدا ساری دنیا کی آواز میں نہیں سُن سکتا ؟ اسی طرح اب دور بینیں نکل چکی ہیں جن سے دُور دُور کی چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں اور اب تو وائرلیس نے ترقی کرتے کرتے یہ صورت اختیار کرلی ہے کہ شکلیں بھی دُور دُور تک دکھا دی جاتی ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ قریب زمانہ میں جرمن میں بیٹھا ہوا اشخص جب انگلستان کے ایک شخص سے گفتگو کر رہا ہوگا تو نہ صرف اس کے الفاظ وہاں پہنچیں گے بلکہ ساتھ ہی اُس کی تصویر بھی آجائے گی اور یوں معلوم ہوگا گویا آمنے سامنے بیٹھ کر دونوں گفتگو کر رہے ہیں۔اس وقت بھی یورپ کے بعض ممالک میں ریڈیو کی ایک دوسری قسم عمل کر رہی ہے۔جس میں آواز کے ساتھ وہاں کا نظارہ بھی آجاتا ہے مگر ابھی اس کا دائرہ عمل محدود ہے۔سو میل سے زیادہ ایسا نہیں کر سکتے۔اس ایجاد کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ جب ترقی کر جائے گی تو دنیا بھر میں آواز کے ساتھ نظارے اور تصویریں بھی ایک ہی ساتھ پہنچائی جاسکیں گی۔مثلاً انگلستان میں کوئی شاہی جلوس نکلا یا ولایت میں تاج پوشی کی تقریب ہوئی تو نہ صرف ہندوستان کے لوگ وہاں کے لوگوں کی آوازیں سُن سکیں گے بلکہ ساتھ کے ساتھ نظارہ بھی دیکھتے جائیں گے اور انہیں یوں معلوم ہوگا کہ گویا وہ لنڈن میں موجود ہیں۔بادشاہ گزر رہا ہے اور اس کے ساتھ فلاں فلاں تزک واحتشام کا سامان ہے۔اس کے متعلق وہاں تجربے شروع ہو گئے ہیں اور پچاس سو میل کے اندر اس قسم کے نظارے دکھائے جانے شروع ہو گئے ہیں۔گویا آواز کے ساتھ نظارہ کا انتقال بھی شروع ہو گیا ہے اور آئندہ ہندوستان یا چین یا جاپان میں بیٹھا ہوا شخص نہ صرف انگلستان کے لوگوں کی آوازیں سنے گا بلکہ وہاں کے نظارے بھی دیکھ سکے گا۔وہ نہ صرف یہ سنے گا کہ فلاں شخص