خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 382

خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۳۸ نے اس موقع پر ہاتھ سے مقابلہ کرنے کا حکم ہی نہیں دیا۔اگر شریعت پر عمل کرنے کا نام بے غیرتی رکھا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول نے بے غیرتی سکھائی ہے۔پس اگر قانون کی پابندی کی وجہ سے قادیان کے احمدیوں کو بے غیرت کہا جائے تو یہ صرف قادیان کے احمدیوں پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر بھی الزام ہوگا کیونکہ بے غیرتی کی تعلیم دینے والا بھی بے غیرت ہی ہوتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اگر کسی کا عقیدہ یہ ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا چاہئے وہ چاہے قادیان میں ہو یا پشاور میں اگر ہاتھ نہیں اٹھاتا تو وہ اپنے عقیدہ کی رو سے بے غیرت ہے کیونکہ غیرت کا حکم صرف قادیان والوں کے لئے ہی تو نہیں ، یہ تو سب کے لئے ہے۔خواہ کوئی پشاور کا ہو یا راولپنڈی کا ، لاہور کا ہو یا کراچی کا ، کلکتہ کا ہو یا بمبئی کا ، خواہ کوئی انگلینڈ کا ہو یا کی امریکہ کا ، چین کا ہو یا جاپان کا ، سماٹرا کا ہو یا جاوا کا۔پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ شریعت کا یہی حکم یا ہے کہ ایسے موقع پر قانون کو ہاتھ میں لو اور بدی کرنے والے کو مٹا دو تو جس نے بدی کو نہیں مٹایا وہ بے غیرت ہے خواہ وہ کہیں رہتا ہو لیکن اگر شریعت یہ کہتی ہے کہ مت مٹاؤ اور قانون کو ہاتھ میں مت لو۔جیسا کہ میرا عقیدہ ہے اور جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے اور جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث اور کلام مسیح موعود سے ثابت ہے تو جس نے اس پر عمل کیا وہ باغیرت ہے۔کیونکہ اصل غیرت یہی ہے کہ انسان خدا تعالی اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرے۔خواہ اپنے نفس کے جوشوں کو کتنا ہی مارنا کیوں نہ پڑے۔میں نہیں سمجھ سکتا پشاور کے اس دوست کو یہ کیونکر معلوم ہو گیا کہ قادیان میں ایسے دوستوں کی تعدا داشتی فیصدی ہے کہ جن کا خیال ہے کہ بدی کو ہاتھ سے مٹانا چاہئے اور جہاں تک میراعلم ہے اور میرا اس کے متعلق سب سے زیادہ علم ہے ایسے لوگ دس فیصدی بھی نہیں ہیں۔ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں اور اُن کو بھی جانتے ہیں جو بظاہر ہم سے ملے ہوئے ہیں مگر اصل میں ہمارے دشمنوں سے ان کو ہمدردی ہے۔جن دنوں ہائی کورٹ کے فیصلہ میں بعض ایسے ریمارک ہوئے جن کی بناء پر ان کا غلط مفہوم لے کر مخالفوں کو اعتراض کا موقع مل گیا تو ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میں فلاں شخص کے ساتھ مل کر امتحان کی تیاری کیا کرتا تھا۔وہ کہنے لگا کہ