خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 362

خطبات محمود ۳۶۲ سال ۱۹۳۸ء کبھی ایک اچھے کام کے مقابلہ میں بھی دل میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص نے دوسرے سے دس روپے لینے ہیں یہ اس کا حق ہے اور وہ اس کا ہر وقت تقاضا کر سکتا ہے لیکن فرض کرو جس س سے اس نے دس روپے لینے ہیں وہ سخت تنگدست ہے۔اس کے پاس صرف پانچ سات مرغیاں ہیں جن کے انڈے بیچ بیچ کر وہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔اب اگر یہ جا کر اس کی مرغیاں اٹھا لیتا اس کے انڈوں پر قبضہ کر لیتا اور اس کے گھر کی ایک دو اور چیزیں بھی ان روپوں کے بدلہ میں لے لیتا ہے اور قانون کی مدد سے قرق کرا کے لیتا ہے تو کوئی قانون اسے مجرم قرار نہیں دے گا اور تم بھی اس کے اس فعل کو بُر انہیں کہو گے کیونکہ اس نے اپنا ایک حق حاصل کیا مگر یہ فعل دیکھ کر تمہارے دل میں محبت نہیں نفرت پیدا ہوگی۔جب ایک بھو کے شخص نے دوسرے کی روٹی چرالی تھی تو گوتم اس فعل کو برا کہہ سکتے تھے مگر اس مجرم کے متعلق رحم بھی پیدا ہوتا تھا۔مگر اس فعل کو تم یوں تو جائز کہو گے مگر اس کے مرتکب کے بارہ میں ا ساتھ ہی نفرت بھی پیدا ہو گی حالانکہ اس نے اپنا حق حاصل کیا۔حکومت کے کہنے پر لیا اور سپاہی کو ساتھ لے کر لیا مگر با وجود ان تمام باتوں کے تمہارے دل میں اس سے ہمدردی نہیں ہوگی۔تمہارے دل کی ہمدردی اسی شخص کے ساتھ ہوگی جس نے دوسرے کا مال کھالیا۔اس کے مقابلہ میں جس شخص نے چوری کی تھی اس کا فعل گو برا ہے مگر تمہارے دل میں اس سے نفرت پیدا نہیں ہوگی بلکہ اگر تمہارا دل ٹھیک ہے اور تمہارا دماغ درست ہے تو تمہارے دل میں رحم پیدا ہوگا۔پس خارجی اعمال کے مقابلہ میں قلوب کا انفعال ایک بسیط امر نہیں بلکہ مرکب امر ہے لیکن جہاں تک قضاء کا تعلق ہے۔ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ نفس واقعہ سے ہم اِدھر اُدھر نہ ہوں۔اگر ایک چور چوری کر کے آتا ہے اور ہم قاضی ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے سزا دیں۔اگر ایک قاتل قتل کر کے آتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس کے فعل سے بیزاری کا اظہار کریں۔اگر کوئی کی دوسرے سے کچھ روپیہ وصول کرنے کا حق رکھتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم وہ روپیہ وصول کی کرانے میں اس کی مدد کریں۔پس قضاء کے سلسلہ میں ہمارا فرض ہے کہ ہم نفس واقعہ سے کبھی اِدھر اُدھر نہ ہوں۔گو اس میں بھی بعض دفعہ مجبوری پیدا ہو جاتی ہے۔اور قضاء میں واقعات کی مجبوری کو تسلیم کر کے دوسرے واقعات کو مد نظر رکھ لینا پڑتا ہے۔جیسے قانونِ انگریزی میں یہ کی