خطبات محمود (جلد 19) — Page 363
خطبات محمود ۳۶۳ سال ۱۹۳۸ بات داخل ہے کہ اگر نہائت اشتعال کی حالت میں کوئی شخص قتل کر دے تو اسے پھانسی کی سزا نہیں دیتے بلکہ قید کی سزا دیتے ہیں کیونکہ حج کہتے ہیں یہ ایک قسم کی دیوانگی ہے۔جس کے نتیجہ میں اس نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔ہم اسے قاتل سمجھتے اور اس کے وجود کو سوسائٹی کے لئے مضر سمجھتے ہیں مگر ہم اسے پھانسی کی سزا نہیں دے سکتے کیونکہ اس نے انتہائی مجبوری کی حالت میں سخت مشتعل ہو کر اس فعل کا ارتکاب کیا۔چنانچہ وہ اسے عمر قید کی سزا دے دیتے ہیں یا دس بارہ سال قید کی سزا دے دیتے ہیں حالانکہ وہ قاتل ہوتا ہے مگر اس کی دماغی طور پر جو مجبوری کی حالت ہوتی ہے اسے قانون تسلیم کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس قسم کے فیصلے بہت محدود ہونے چاہئیں ورنہ انصاف کا خون ہو جائے گا۔اسی لئے قتل کے مقدمات میں بہت شاذ اس قانون کا استعمال کرتے ہیں۔عام طور پر قتل کی سزا میں پھانسی کی سزا ہی تجویز کرتے ہیں۔تو گو قضا کے لحاظ سے کوشش یہی ہونی چاہئے کہ نفسِ واقعہ سے انسان اِدھر اُدھر نہ ہو مگر اس کی میں بعض دفعہ مجبوری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔جیسا کہ شدید اشتعال کی حالت میں قتل کی مثال میں نے بیان کی ہے یا جیسا کہ حال میں ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ ہوا ہے۔جس میں اسی بات پر عمل کیا گیا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ بٹالہ کے ایک مجسٹریٹ نے ایک مقدمہ کے دوران میں یہ لفظ کہے۔کہ مسلمان جو حضرت باوا نا نک رحمۃ اللہ علیہ کو مسلمان کہتے ہیں ، یہ سکھوں کو بُرا لگتا ہی ہے اور یہ ایسا ہی ہے۔جیسے نَعُوذُ بِاللہ کوئی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کا فرکہہ دے۔الفضل نے اس پر بعض مضامین لکھے۔جن میں مجسٹریٹ کے اس رویہ کے خلاف احتجاج کیا اور لکھا کہ یہ بہت ناشائستہ الفاظ ہیں اور مجسٹریٹ سے اس کے متعلق بازپرس ہونی چاہئے۔اس پر گورنمنٹ نے ہائی کورٹ میں الفضل کے خلاف اس بناء پر مقدمہ چلا دیا کہ اس کے ایڈیٹر اور پرنٹر و پبلشر نے عدالت کی ہتک کی ہے اور انہیں سزاملنی چاہئے کیونکہ انہوں نے مجسٹریٹ کے متعلق یہ لکھ دیا ہے کہ اس نے ناشائستہ الفاظ کہے ہیں۔ہائی کورٹ والوں نے اس کے متعلق پہلے کچی پیشی رکھی۔دو حج سماعت کے لئے موجود تھے۔ایک مسٹر جسٹس ایڈیسن صاحب اور دوسرے مسٹر جسٹس دین محمد صاحب گورنمنٹ کی طرف سے اس کا سب سے بڑا وکیل ایڈووکیٹ جنرل پیش ہو ا اور اس نے ہائی کورٹ کو توجہ دلائی۔کہ ایڈیٹر الفضل کو بلا کر باز پرس کرنی چاہئے اور