خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 318

خطبات محمود ۳۱۸ سال ۱۹۳۸ بوجہ علم کی کمی کے نہیں آسکتے مگر کم سے کم جو باتیں میرے خطبات میں آچکی ہیں ان کے متعلق یہ ان کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ انہیں تمام جماعت میں پھیلا دیں۔پھر صرف انصار اللہ ہی نہیں مدرسوں کے ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ صاحبان کا بھی یہی فرض ہے کہ وہ اپنے لڑکوں میں وہ روح پیدا کریں جو میں جماعت کے تمام دوستوں کے دلوں میں پیدا کرنی چاہتا ہوں۔ابھی چند دن ہوئے ہمارے زنانہ مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر صاحب مجھے ملنے کیلئے آئے اور کہنے لگے کہ میں کیا کام کروں۔میں نے انہیں بعض ہدایتیں دیں مگر اب میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ واقع میں کوئی ٹھوس کام کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی تعلیم کے احیاء کے متعلق میرے جس قدر گزشتہ خطبات ہیں وہ نکالیں اور ان کے مضامین سے سکول کی طالبات کو آگاہ کریں۔جب وہ واقف ہو جائیں تو پھر وہ اپنی ماؤں کو ، اپنی بہنوں کو اور اپنی دیگر رشتے دار عورتوں کو بتائیں کہ ہماری جماعت کے قیام کی اصل غرض کیا ہے۔یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں ہی قادیان میں رہنے والا ہر شخص اسلامی تعلیم سے آگاہ ہو جائے اور وہ بشاشت کے ساتھ اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جائے مگر اب یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی حکم دیا جاتا ہے تو بعض لوگ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کا خاص حکم نہیں بلکہ ان کا ذاتی استدلال ہے۔جو سچا مؤمن ہوتا ہے وہ کی تو ان باتوں کی پروا نہیں کرتا اور نہ اس قسم کے وساوس سے اپنے ایمان کو متزلزل کرتا ہے ، وہ ج صرف یہی جانتا ہے کہ جب ایک شخص ہمارا خلیفہ ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے تو پھر وہ جو حکم بھی دے گا اس پر عمل کرنا ہمارے لئے ضروری ہوگا۔وہ خدا اور رسول کے خلاف حکم نہیں دے سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ سب لوگ ایمان میں برا برنہیں ہوتے۔کامل الایمان تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ جو بات ان سے کہی جاتی ہے وہ اچھی ہے۔اگر ان کی سمجھ میں یہ بات آجائے کہ جو بات ان سے کہی جاتی ہے اچھی ہے تو وہ اسے فوراً قبول کر لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ضرور خدا تعالیٰ کا بھی یہی منشاء ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھی نہیں تو اس سے رک جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ان سے کم ایمان والے ہوتے ہیں اور وہ اچھی بات کے ساتھ کسی اچھے آدمی کی تائید کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔وہ ہر فتویٰ کسی بڑے آدمی کے منہ سے سننا چاہتے ہیں۔اگر چھوٹا آدمی وہی فتویٰ سنائے تو وہ اس کی چنداں پرواہ نہیں کرتے لیکن اگر بڑا آدمی وہی فتویٰ سنائے کی