خطبات محمود (جلد 19) — Page 299
خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۸ء نہ کی جاسکے گی سوائے اس کے کہ وہ بحیثیت جماعت یا انفرادی طور پر اپنے طریق کو چھوڑیں اور اسلام کے اصول کو کلیۂ اختیار کر لیں۔اس وقت تک گزشتہ زمانہ کو دیکھتے ہوئے عام طور پر ہماری جماعت میں بھی اور پہلی جو جماعتیں اس امر کی تحقیق میں لگی رہی ہیں ان میں بھی یہ خیال پایا جاتا تھا کہ یاجوج اور ماجوج در حقیقت دو ملکوں کے نام ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو پیشگوئیاں ہوتی ہیں ان کی پوری حقیقت وقت پر کھلا کرتی ہے۔اب جو واقعات ظاہر ہور ہے ہیں انہوں نے بتا دیا ہے کہ یہ دو ملکوں کے نام نہیں بلکہ دو اصول کے نام ہیں۔بے شک ممکن ہے یہ دو اصول خاص دو ملکوں کے ذریعہ زیادہ نمایاں طور پر نظر آتے ہوں مگر حقیقتا یہ کسی ایک ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ هُم مِن كُلّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ! یعنی یہ دونوں گروہ دنیا کے کی ہر مقام پر مسلط ہونے کی کوشش کریں گے اور ہر ایک روک جو اُن کے راستہ میں آئے گی اُس پر چڑھنے اور اس پر غالب آنے کیلئے جد و جہد اور سعی عمل میں لائیں گے اور یہ بات اب بالکل نمایاں اور واضح طور پر نظر آگئی ہے۔چنانچہ واقعات نے ظاہر کر دیا ہے کہ یا جوج اور ماجوج دو اصول ہیں جو اس زمانہ میں دنیا پر غالب آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک اصل تو وہ ہے جو جمہوریت کو اس کے تمام عیوب سمیت دنیا میں ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسرا اصل وہ ہے جو قابلیت اور لیاقت کو ترقی دینا چاہتا ہے اور جمہوریت کی روح کو دبانا چاہتا ہے۔یہ دو اصول اس وقت دنیا میں ایک دوسرے کے مقابلہ میں غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک اصل تو اِس بات کی جدو جہد میں مشغول ہے کہ افراد کی طاقت کو بڑھا کر دنیا میں کی غلبہ حاصل کیا جائے اور ایک اصول اس غرض کیلئے کوشاں ہے کہ اعلیٰ قابلیت کو رہنمائی کی باگ ڈور دے کر دنیا پر غلبہ حاصل کیا جائے۔ان دونوں گروہوں نے دنیا پر کامل طور پر غلبہ حاصل کیا ہوا ہے اور ساری دنیا اِن دو گروہوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔اسلام ان دونوں کے خلاف اور ان دونوں سے بالکل الگ ایک درمیانی راہ پیش کرتا ہے۔وہ انفرادیت کو بھی نظر انداز نہیں کرتا اور چیدہ افراد کی طاقتوں سے کام لینے کو بھی نا پسند نہیں کرتا۔وہ یہ اجازت بھی نہیں دیتا کہ افراد کی حریت کو کچل دیا جائے اور وہ یہ بھی اجازت نہیں دیتا کہ چیدہ افراد کی