خطبات محمود (جلد 19) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۳۸ء کسی دوسری جگہ زیادہ عرصہ رہنے سے اس کے خواص بدل جاتے ہیں۔ورنہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ عربی زبان اُم الالسنہ ہے، اس لئے انسانی نسل کا منبع بھی عرب ہی ہے۔اس کے بعد میں آج کے خطبہ کے مضمون کی طرف آتا ہوں۔میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی۔نئی نسلیں جب تک اُس دین اور اُن اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں اُس وقت تک اس سلسلہ کا ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اُٹھ سکتا۔بے شک ترقی ہوتی ہے مگر اس طرح کہ کبھی ترقی ہوئی اور کبھی کچ رُک گئی ، کبھی بڑھ گئے اور کبھی رخنہ واقع ہو گیا۔اس طرح وہ الہی سلسلہ پہاڑوں کی طرح اونچا نیچا ہوتا چلا جاتا ہے۔لیکن بہر حال رخنہ بُری چیز ہے کوئی اچھی چیز نہیں اور ہمیں اس کو جلد سے جلد دور کرنا چاہئے۔مگر یہ رخنے آج ہم میں ہی پیدا نہیں ہوئے پہلی قوموں اور پہلے زمانوں میں بھی موجود تھے جن کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض لوگ ہماری جماعت پر یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اگر یہ الہی سلسلہ ہے تو اس میں فلاں نقص کیوں ہے حالانکہ یہ باتیں پہلے زمانوں میں بھی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے حقوق کی ہمیشہ حفاظت کیا کرتی تھیں اور بعض دفعہ جب کوئی عورت اپنے خاوند کی شکایت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتی تو حضرت کی عائشہ رضی اللہ عنہا بڑے زور سے اس کی تائید کیا کرتیں اور بار بار فرما تیں کہ اس کے حقوق تلف ہور ہے ہیں ، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعض دفعہ فرماتے کہ عائشہ ! تم تو عورتوں کی بڑے زور سے حمایت کرتی ہو۔پھر دین کے کاموں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بڑا حصہ لیتی تھیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اعتکاف بیٹھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہو ا تو انہوں نے اُسی وقت مسجد میں خیمہ جالگایا۔باقی اُمہات المؤمنین نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے اپنے خیمے مسجد میں آکر لگا دیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لائے تو آپ کیا دیکھتے ہیں کہ جس طرح کہیں فوج اُتری ہوئی ہوتی ہے اُسی طرح مسجد می