خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 142

خطبات محمود ۱۴۲ سال ۱۹۳۸ء جو آپ نے کئے قرآن کریم سے ثابت نہیں ہوتے تھے تو آسان طریق یہ تھا کہ قرآن کریم یا تی احادیث صحیحہ سے ان کا غلط ہونا ثابت کر دیا جاتا۔پس دشمن کیلئے یہ راہ بالکل آسان تھی کہ وہ ان آیتوں اور حدیثوں کو پیش کرتا جو ان دعوؤں کے خلاف تھیں مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے آپ کی طرف جھوٹے دعوے اور جھوٹے کام منسوب کئے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں ایسا نبی نہیں ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ اطاعت سے باہر جاؤں بلکہ میں آپ کے دین اور قرآن کریم کی اشاعت کیلئے مبعوث کیا گیا ہوں۔لیکن دشمنوں نے لوگوں کو یہ بتایا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی ہے یا پھر یہ کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری“ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔مگر خدائی صفات جو آپ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں وہ آپ میں نہیں تھیں۔اور اس پر دشمنوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ آپ نے حضرت مسیح کی ہتک کی ہے۔حالانکہ اگر آپ کا یہ دعویٰ غلط تھا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طرف ایسے معجزات منسوب کرنا جن کی سے شرک پیدا ہوتا ہے غلطی ہے تو اس کا رڈ آسان تھا اور وہ اس طرح کہ قرآن کریم سے یہ ثابت کر دیا جاتا کہ بندے مُردوں کو زندہ کر سکتے ہیں یا یہ کہ انبیاء کو ایسا علم غیب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو ہے۔مگر یہ آسان راہ اختیار کرنے کی بجائے دشمنوں نے آپ کی طرف ایسے دعوے منسوب کئے جو آپ نے نہیں کئے تھے اور آپ کی کتابوں سے حوالے کانٹ چھانٹ کی کر آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کیں جو دراصل آپ نے نہیں کہی تھیں۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک رسالہ لکھا اور گورنمنٹ کو بھجوایا جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ آپ گویا گورنمنٹ کے مخالف ہیں۔اور اس میں آپ کی کتابوں سے بعض کی حوالے کانٹ چھانٹ کر اور کوئی ٹکڑا عبارت کا کہیں سے لے کر اور کوئی کہیں سے درج کر دیئے مگر آج اس کے برخلاف دشمن یہ کہتے ہیں کہ آپ گورنمنٹ کے خوشامدی تھے اور آپ کی کتابوں کی ایسی تھیں الماریاں بھری پڑی ہیں جن میں آپ نے گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی ہے اور گورنمنٹ کی خوشامد سکھائی ہے۔گویا پہلے بغاوت کا حربہ استعمال کیا لیکن اب یہ دیکھ کر کہ وہ حربہ اب کارآمد نہیں ہوسکتا، کیونکہ لوگوں میں بیداری پیدا ہو چکی ہے اور قومی خیالات کی