خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 140

خطبات محمود ۱۴۰ سال ۱۹۳۸ء گمراہی کا موجب نہ ہوا ہو، اسی طرح دنیا میں خدا تعالیٰ کا کوئی مامور یا مرسل ایسا نہیں آیا کی جولوگوں کی ہدایت کا موجب نہ ہوا ہو۔کوئی کتاب ایسی نہیں آئی جس سے لوگوں نے ہدایت کی نہ پائی ہو۔کوئی شخص خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے ایسا کھڑا نہیں ہوا جس کے دل میں سچی تڑپ ہو اور خدا تعالیٰ نے اس کی کوششوں میں برکت نہ ڈالی ہو۔یہ دونوں دریا یکساں اور بیک وقت چلتے ہیں۔لیکن بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يبغين بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی دریا ہے جو کسی زمانہ میں خالص اسلام کے نام سے بہتا ہے، کسی زمانہ میں عیسوی تعلیم کے نام سے بہتا ہے اور کسی زمانہ میں ابراہیم کی تعلیم کے نام سے بہتا ہے اور کسی زمانہ میں احمد یہ اسلام کے نام سے بہتا ہے۔گو ہر زمانہ میں یہ دریا ایک نظر آیا ہے مگر دراصل اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک میٹھا اور ایک کڑوا۔جو حصہ میٹھے پانی پر مشتمل ہوتا ہے وہ مؤمنوں کی جماعت ہوتی ہے اور جو کڑوے پر مشتمل ہوتا ہے وہ منافقوں کی جماعت ہوتی ہے اور ان دونوں کے درمیان کی ایک بہت ہی بار یک پردہ ہوتا ہے۔جیسا کہ فرمایا بینَهُما بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ یعنی گودنیا کو وہ دریا ایک ہی نظر آتا ہے مگر دراصل اس میں دو قسم کے پانی میں ایمان کا بھی اور نفاق کا بھی۔مؤمن کوشش کرتے ہیں کہ منافقوں کو سیدھا کریں اور راہ راست پر لے آئیں مگر ان کی باتیں ان کو اور بھی گمراہ کرنے کا موجب ہو جاتی ہیں اور منافق کوشش کرتے ہیں کہ مومنوں کو گمراہ کریں۔مگر ان کی تدبیریں مؤمنوں کے ایمان کو اور بھی بڑھانے کا باعث ہو جاتی ہیں۔سورۂ بقرہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَزَادَهُمُ الله مَرَضًا کے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نشانوں سے منافقوں کے مرض کو بڑھاتا ہے۔پھر سورۃ احزاب میں ہے کہ منافقوں نے آکر مسلمانوں کو ڈرانا شروع کیا اور کہا کہ گھر بہت ترقی کر گیا ہے اور کہ کا فر چاروں طرف سے حملہ آور ہور ہے ہیں اور اب ایسا وقت آگیا ہے کہ مسلمان بالکل تباہ ہو جائیں مگر یہ باتیں سُن کر اور کفار کا لشکر دیکھ کر بجائے اس کے کہ مؤمن ڈرتے ان کے ایمان اور بھی بڑھ گئے وَمَا زَادَهُمْ اِلَّا اِيْمَانَا و تسليما ان امور نے مؤمنوں کے ایمان اور ان کی فرمانبرداری کو اور بھی بڑھا دیا۔کی غرض نشان ایک ہی ہوتا ہے مگر دو قسم کے لوگوں کیلئے وہ دو مختلف نتائج پیدا کرتا ہے۔ایک فریق اس کی وجہ سے ایمان میں ترقی کرتا ہے اور دوسرا نفاق میں۔