خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 122

خطبات محمود ۱۲۲ سال ۱۹۳۸ء اصلاح کرنی چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ غصہ اور جوش میں آجاتے کی ہیں۔کئی ہیں جو امانت میں خیانت کرتے ہیں، کئی ہیں جو اپنی ذمہ داری کو صحیح رنگ میں ادا نہیں کرتے۔یہ مثالیں جہاں غیر از جماعت لوگوں پر بُرا اثر ڈالتی ہیں وہاں اپنی جماعت کے بعض لوگ بھی ایسے لوگوں کو دیکھ کر عمل میں سُست ہو جاتے ہیں حالانکہ تم نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کی کہ ایک شخص خود کشی کرے تو اسے دیکھ کر سارے لوگ خودکشی کرنے لگ جائیں مگر دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کو جب نیک اعمال میں سستی کرتے دیکھتے ہیں تو خود بھی سستی کرنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو دوسروں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اس گناہ کی نقل کریں بلکہ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس گناہ کو روکیں اور خود اس سے بچنے کی کوشش کریں۔تم نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ جب ڈا کہ یا چوری کی وارداتیں لوگ سنہیں تو ڈا کہ اور چوری کو پسند کرنے لگ جائیں۔پھر اگر ڈا کہ اور چوری جو تمدنی گناہ ہیں، اُنہیں دیکھ کر ڈا کہ اور چوری سے نفرت ہی پیدا ہوتی ہے ، ان کی طرف رغبت پیدا نہیں ہوتی تو جو اخلاقی اور کی مذہبی گناہ ہیں انہیں دیکھ کر بھی نفرت ہی پیدا ہونی چاہئے۔اگر ایک ڈاکہ کی واردات سن کر سارے زمیندار یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں نے بہت بُرا کیا تو کسی کے متعلق یہ سن کر کہ وہ نمازیں نہیں پڑھتا ایک شخص کے دل پر یہ اثر ہونا کہ معلوم ہوتا ہے یہ معمولی بات ہے آئندہ میں بھی ایسا کی ہی کروں گا، محض حماقت اور نادانی ہے۔پس بُری مثالوں سے اپنی قوت عمل کو کمزور نہیں ہونے کی دینا چاہئے اور نہ بُری باتوں کی تشہیر کرنی چاہئے کیونکہ اس طرح بدی دنیا میں کثرت سے پھیل ہے۔یہی امر خدا تعالیٰ نے سورہ نور میں ان الذینَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَاب اليد، في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لا تعلمون سے میں بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ بُری باتوں کا مجالس میں تذکرہ نہیں کرنا چاہئے ورنہ لوگ عام طور پر ان باتوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔میں نے ابھی کہا ہے کہ دنیا میں لوگ کثرت سے ڈا کہ اور چوری وغیرہ بُرے افعال سے نفرت کرتے ہیں لیکن باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ اگر یہ واقعات بجائے شاذ و نادر ہونے کے کثرت سے ہونے لگ جائیں یا ان کا ذکر لوگوں میں کثرت سے ہونے لگے تو تھوڑے ہی