خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 120

خطبات محمود ۱۲۰ سال ۱۹۳۸ء متعلق یہ کہا کہ وہ مر گیا تھا اور میں نے اس کا گوشت حاصل کر لیا یا اور کوئی ایسی ہی بات تھی اور اس طرح اس نے اقرار کیا کہ واقعہ میں یہ کھانا جائز نہیں تھا۔آخر اس نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے یہ کیونکر معلوم کر لیا کہ یہ کھانا نا جائز ہے ؟ تو ان سب نے یہ جواب دیا کہ جب یہ کھانا ہمارے سامنے رکھا گیا تو ہمارے نفس میں اس کے کھانے کیلئے خاص طور پر رغبت پیدا ہوئی۔جس سے ہم نے یہ سمجھا کہ یہ ضرور کوئی گناہ والی بات ہے تبھی ہمارا نفس اس قدر رغبت کا اظہار کر رہا ہے۔اب یہ ایک جذباتی امر ہے ، افکار سے اس کا تعلق نہیں کیونکہ فکر ظاہری باتوں پر غور کر کے دلیل کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔تو جب انسان ایسے مقام پر کھڑا ہو جائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی خود بخو د راہنمائی ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کو ایسی مخفی ہدایت ملتی ہے جسے الہام بھی نہیں کہہ سکتے اور جس کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ الہام سے جُدا امر ہے۔الہام تو ہم اس لئے نہیں کہ سکتے کہ وہ لفظی الہام نہیں ہوتا اور عدم الہام ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ عملی الہام ہوتا ہے اور انسانی قلب پر اللہ تعالیٰ کا نور نازل ہو کر یہ بتا دیتا ہے کہ معاملہ یوں ہے حالانکہ لفظوں میں یہ بات نہیں بتائی جاتی۔بعض دفعہ جب اس سے بھی واضح رنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات بتائی جاتی ہے تو اسے کشف کہہ دیتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بہت سے آدمی جب میرے سامنے آتے ہیں تو ان کے اندر سے مجھے ایسی شعاعیں نکلتی معلوم دیتی ہیں جن سے مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ ان کے اندر یہ یہ عیب ہے یا یہ یہ خوبی ہے۔مگر یہ اجازت نہیں ہوتی کہ انہیں اس عیب سے مطلع کیا جائے۔میں نے اپنے طور پر بھی دیکھا ہے کہ بعض دفعہ جب کوئی شخص مجھ سے ملتا ہے تو اس شخص کے قلب میں سے ایسی شعاعیں نکلتی دکھائی دیتی ہیں جن سے صاف طور پر اس کا اندرونہ کھل جاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی کپٹ سے ہے یا غصہ ہے یا محبت ہے۔ایک دفعہ ایک دوست مجھ سے ملنے آئے۔وہ نہایت ہی مخلص تھے۔مگر مجھ پر اُس وقت اثر ایسا پڑا جس سے میں نے محسوس کیا کہ ان کے دل میں کوئی خرابی پیدا ہو چکی ہے۔میں نے بعض کی دوستوں سے اس کا ذکر کیا کہ مجھے ایسا نظارہ نظر آیا ہے مگر انہوں نے اس دوست کی بڑی تعریف کی حالانکہ میرے ساتھ ایسا کئی دفعہ ہوا ہے کہ ایک شخص مجھ سے ملنے آیا اور وہ حقیقت میں